عالمی ادب
یہود اہ سے متعلق تین نظریات
Three versions of Judas
جارج لوئیس بورجس ( نوبل انعام یافتہ)
Jorge Luis Borges
مترجم و تجزیہ : غلام محی الدین
یہ افسانہ جے۔ایل بورجس کی کتابArtifices (1944) سے لیا گیا ہے۔
اس مقالے میں مفکر نے تین نقاط کا ذکر کیا ہے جس میں ایک فاضل عالم نلس رُونے برگ نے فلسفے کی رو سے حل کرنے کی کوشش کی ہے۔
پہلا مسئلہ یہ تھا کہ کیا یہوداہ نے حضرت یسوع سے متعلق یہ بات کہہ کر اس کی قربانی ہوسکتی تھی ،کو دھوکا دے کر انکساری دکھا کر مستقل بدنامی کی۔اسے منطقی طور پر حل کرنے کی کوشش کی گئی،اور اس کے بعد اس پر شدید حد کا رعدعمل دیا گیا۔
اس علمی تنازعے کو یہوداہ کی بے وفائی کو اخلاقی خود احتسابی قرار دیا گیا لیکن اس نے پھر بھی اسے خضرت مسیح سے کمتر گردانا گیا۔
دوسرا مسئلہ یہ تھا کہ حضرت یسوع متقی اور زاہد تھے ، وہ نورانی اور روحانی وجود رکھتے تھے اور انسانوں کو بچانے کے لئے کچھ بھی کرتے تھے۔انہوں نے صلیب پر لٹک کر جو قربانی دی وہ بدترین گناہ تھا۔ اس میں یہوداہ کی منزلت میں اضافہ کیا گیا جس میں روحانی ملعونیت کو جسمانی موت سے بہتر بیان کیا گیا۔
تیسرا مسئلہ یہ تھا کہ یہوداہ جو حضرت یسوع کے سوتیلے بھائی تھے حقیقت میں خدا کا اوتار تھے جس نے انسانوں کو بچانے کے لئے شدید جسمانی اذیتیں برداشت کرکےالٰہی کی خوشنودی ٖ حاصل کی ۔اس مسئلے میں تمام علمی تنازعے کو حل کردیا گیا ہےجس میں یہوداہ کو حضرت یسوع سے مختلف شخص دکھایا گیا ہے ۔وہ اس کے سوتیلے بھائی تھے۔وہ خدا کا حقیقی جسمانی اوتار نہیں تھا، کیونکہ خدا ہی لافافی شرمندگی قبول کر سکتا ہے۔اس آخری مسئلے میں نلس رُوزنے برگ کو رد کردیاجاتا ہےاور اس کی موت ہوجاتی ہے جس سے یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اگر کسی ایمان اور اعتقاد کو منطق سے ثابت کرنے کی کوشش کی جائے تو وہ کفر کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔اس طرغ بورجس کہتا ہے کہ کہ کس ھرح عقل و دانش مذہب اور عقیدے کو محال مجم اور الٹ بات بنا دیتی ہے۔
برّصغیر ایشیا میں یا اسکندریہ میں، ہمارےعقیدے کی دوسری صدی میں، ان دنوں جب وہاں ہر شئے فراوانی میں تھی ۔ ہر جگہ باسلیقی اور خوشحالی کا دور دورہ تھا،آسمان مہربان تھا۔دودھ کی لہریں بہہ رہی تھیں, سریلی گنگناہٹوں کا راج تھا اور فرشتے بھی ان میں کوئی خامی نہیں نکال سکتے تھے۔ ایک عالم نلس رُونےبرگ ، اکیلا خوش و جذبے سے عرفانیت کا خفیہ جلسہ کررہاتھا۔یہ عین ممکن تھا کہ ڈینٹے فلسفی نے اس کے ذمے یہ کام لگایا ہو کہ قبر کے قریب آگ جلائے ،اس کے نام کی چھوٹی چھوٹی بدعتیں کرے ۔اس نے اس کی تفصیل بھی مہیا کی ہوگی۔ یہ رسوم ان دونوں کی تعلیمات کا کچھ حصہ تھا جس میں شوخ اور بھورے رنگ میں گالیاں بھی لکھی گئی تھیں ۔اس کے علاوہ سلطنت کی عظیم الشان لائبریری جس میں ترکیب نحو کے جزو کی آخری کاپی جلا تے وقت مشتبہ لوگوں کے رد عمل سے ان کا پتہ چلے اور انہیں کو ختم کردیا جائے ۔ خدا نے اس کو لُنڈ شہر کی بیسویں صدی میں یونیورسٹی عطا کی تھی ۔وہاں 1904 میں ، اس نے سازشی اور یہود اہ کا پہلاایڈیشن لکھا تھا۔1909 میں اس نے دوسرا ایڈیشن شراب کی شہہ پارہ بوتی ( میگنم آپس ) لکھی اور ایمل سشیرنگ نے 1909 میں اس کا جرمن زبان میں ترجمہ کیا۔
ان عظیم فن پاروں کا تفصیلی جائزہ لینے سے پہلے نلس رُ ونے برگ ، جوانجیل کی منطق (ایونجلیکل )سوسائٹی کا رکن تھا اور ایک مذہبی عالم تھا ،کےخیالات کا مطالعہ کیا تھا۔پیرس اور بیونس ایئرز میں ، گمان ہےکہ ایک عالم شیخ نے بڑی فطانت سے رُونے برگ کے مقالہ جات پر دوبارہ سے غور کیا ہو گا ؛ان مقالوں میں جو شاموں کے اجتماع میں ہوتے تھے، ہلکے اور بے نکتہ تھےجن میں کفر کے کلمات کہے جاتے اور پھوہڑپن کے موضوعات پر درس دئیے جاتے تھے۔ نلس رُونے برگ ، کے لئے یہ اس حد تک کار آمد تھے کہ انہوں نے مذہب کے مرکزی موضوعات کے اسرار اجاگر کردیئے تھے۔وہ دلائل سازی کے لئے عمدہ مواد مہیا کرتے تھے۔وہ مراقبے میں بھی معاونت کے ساتھ ساتھ فلسفیانہ اور تاریخی علمی تنازعات پر بھی بحث ومباحثہ کرتے تھے۔ اس میں فخر ، غرور، طرب ونشاط کی محافل ،اور تشدد کا بھی مطالعہ کیا جاتا تھا۔ٖانہوں نے اس کی زندگی کو منصفانہ قرار دے کر اس کی زندگی میں مشکلات پیدا کر دیں۔وہ علماء جنہوں نے اس کے مقالے کا ناقدانہ جائزہ لیا، بعینہٖ نلس رُونےبرگ کے نتائج پر ہی غورو خوض کرتے ہوں گےاور اور اس کے لہجے یا اس کے ثبوتوں کو نظرانداز کرتے ہوں گے۔یہ کہا جا سکتا تھا کہ نتائج نے اس بات پر بالکل غور نہیں کیا کہ ان ثبوتوں کی گہرائی کتنی تھی۔لیکن وہ شخص اس بات پر مطمئن ہو گیا ہوگا کہ ان ثبوتوں پر جن پر اسے خود بھی یقین نہیں تھایا جس کی اس نے خود بھی پرواہ نہیں کی ہوگی۔
پہلے ایڈیشن کی درجہ وار نقش تحریر میں ، سالہا سال بعد جس کے معانی ، نلس رُونے برگ نے بذات خود مختلف اورنرالے انداز میں تفصیل سے بیان کئے تھے، کو ناقدوں نے مدنظر نہیں رکھا ۔۔صرف یہ شئے ہی نہیں،لیکن وہ تمام باتیں جو اس لیجنڈ نے یہود اہ سے منسوب کیں ،1857 میں ڈی کوینسی نے رد کردیں۔وہ جرمن اس سے پہلے دنیا میں آیا تھا، نے یہود اہ کے بارے میں قیافہ لگایا تھا کہ یہوداہ نے حضرت عیسی ٰءکے سپرد کردی تھی تاکہ وہ خدا کو مجبور کرسکے کہ اس کااعلان کرے۔خدا کی الٰہیت کو حرکت سے قبضہ کرنے سے روم کی شورش میں بیلوں کا جوا ثابت ہوا۔وہ( نلس رُونے برگ) نفسی طبیعیات کی تصدیق کرتا ہے۔وہ انتہائی دانشمندی سے یہودوں کی ضرورت سے زیادہ اعمال پر زور کا شروع کرتے ہوئے رابرٹسن کی تائید میں استاد کی شناخت کرتا ہےجو روزانہ یہودیوں کی عبادت گاہ میں درس دیتا تھااور ہزاروں یہودیوں کے سامنے معجزے دکھاتا تھا۔اساتذہ کے چیلوں کی دھوکہ دہی کی شناخت کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔اس دوران در حقیقت ایسا ہی ہوا۔صحیفوں میں تبدیلی ناقابل برداشت ہوتی تھی لیکن انسانی تاریخ میں ان میں تبدیلیاں کی گئی ہیں ۔ارگو ، جوڈ اس انسانی تاریخ میں کی قربانی ایک اتفاقیہ عمل نہیں تھا بلکہ طے شدہ عمل تھاجس کی رہائی کی اکانومی تھی۔ وہ (نلس رُونے برگ )اس میں مزید کہتا ہے، لفظ کا گوشت بنایا گیا جس کی موجودگی پوری کائنات میں پھیلا دی ا گئی ا ور اسے تاریخ میں مستقل حیثیت دے دی گئی۔اسے لامحدود خوشیاں ، لطف کو بے چینی اور قربانی سے اسے واپس ادا کیا گیا، یہ ضروری تھا کہ ایک شخص کی قربانی کو تمام بنی نوع انسان کی قربانی بنا دی جائے۔
ہر ایمان اور عقیدے اورنظریے پر اعتراضات اوربطلان ہوتے ہیں۔لارز پیٹر اینگ سٹروم
نے رُونےبرگ کےاساسی ملاپ کو نظرانداز کیا:ایسل بورلی یس نے عدم بشریت نظریہ پیش کیا Theory) (Docetism
عدم بشریت عدم بشریت سے مراد نورانی اور روحانی کا یکجا ہوناہے۔اس کے مطابق حضرت یسوع یہ خصوصیات پائی جاتی تھیں۔ جس نےان کی انسانی حیثیت کو رد کردیا۔اس لئے وہ جسمانی درد اور کرب سے مبرا تھے ۔لُنڈ کےایک دبنگ بشپ نےاس پر الزام لگایا کہ اس نے انجیل کے باب 22 کی آیت 3 سے انحراف کیا۔
اس نے دلیل دی کہ یسوع کی بشریت بھی اتنی ہی اہمیت کی حامل ہے جتنی اہمیت کی حامل یسوع کی الوہیت ہے ۔ یسوع پوری طرح الٰہی ہونے کے باوجود ایک انسان کی حیثیت سے پیدا ہوا تھا۔ یسوع کی بشریت اور الوہیت کے ساتھ ساتھ موجود ہونے کے تصور کو سمجھنا انسان کے محدود ذہن کے لیے مشکل ہے۔ بہرحال یسوع کی فطرت - کامل انسان اور کامل خدا – مقدس انجیل کی سچائی ہے۔ ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے اِن سچائیوں کو مسترد کیااور کہا کہ یسوع خدا نہیں بلکہ ایک انسان تھا(ایبیون ازEbionism)۔دوسری طرف ڈوسیٹیزم- Docetism /عدم بشریت کا نظریہ بیان کیا کہ اس میں نورانی اور روحانی خواص دونوں ہی موجود تھےجن سے نلس رُونے برگ متاثر ہوا اور اپنے نظریات میں جگہ دی۔اور دوبارہ سےمذمت کی گئی Diverse anthemas متنوع ملعون عقائد بھی رونے برگ پر اثر انداز ہوئے جس نے اپنی دوسری کتاب لکھ کر اپنے عقیدے کی اصلاح کی ۔اس نے اپنے مخالف علماء کے عقائد کو مسترد کیااور اخلاقیات کی حدود پھر سے متعین کیں۔اس نے تسلیم کیا کہ یسوع جو اس بات کا دعویٰ کرتا تھا کہ وہ بہت طاقتور ہے کسی بھی مقام پر وسائل لاکر استعمال کرسکتا ہےاور اسے عوام الناس کی فلاح کے لئے کسی انسان کی مدد کی ضرورت نہیں۔اس نےتمام انسانوں کی رہائی کا یہ منصوبہ ظاہر کیا۔اس کے بعد اس نے ان علماء کے دعووں کو آڑےہاتھوں لیااور کہا inexplicable betrayer کہ وہ ناقابل یقین حد تک دھوکے باز ہے۔نلس ُرونے برگ نے کہاکہ وہ انجیل ماننے والا تھا،اور یسوع ایسا شخص تھا جسے جنت کا بادشاہ چنا گیا تھا،وہ بیماروں کو شفا دیتا تھا، کوڑھیوں اور جزام کا علاج کرتا ، مروں کو زندہ کرتا ،اور شیطانوں سے نجات دلاتا تھا۔اس کے ان دلائل نے ایک واحد انسان کو نجات دہندہ کے طور پر پیش کیا جو بڑی ہمدردانہ تشریح تھی۔نلس رُوبرگ نے اس طرح اپنے جرم کی تہمت کو طمع اور لالچ میں تبدیل کرکے اپنے محرک کوسب سے نچلادرجہ ے پر لے گیا۔اور اس نے اس کے یکسر برخلاف ایک محرک پیش کیا جو مبالغہ آمیزحد تک زہد و تقوی پر مبنی تھا۔جس میں پارسا لذت ، تسکین ،آرام وغیرہ کی تحقیر کی گئی اور جسم کی قربانی کرکے ،روح کو پاکیزہ کیا گیا ۔اس نے عزت ،وقار، اچھائی ،امن، جنت کی بادشاہی، دوسرے پیروکاروں کی طرح ترک کیا۔اس نے اپنے گناہوں کو من اور تن کی صفائی سے کیا۔اس نے فسق ،زناکاری،نزاکت اور خود پسندی ترک کی۔اس نےنسل کشی اورمردم کشی، کلمہ کفر،بے ادبی ، نذلیل اور بے عزتی ، کو شیطانی کہا۔یہوداہ نے کسی بھی ایسے گناہ کو جس پر کسی کی توجہ نہ گئی، کسی بھی خوبی،، اعتماد کو ٹھیس پہنچانا، اور بے وفائی کی مذمت کی۔اس نے سخت کوشی سے عظیم انکساری اور بردباری کے ساتھ کاوشیں کیں اور خود کو نئائت حقیر سمجھا۔پال نے لکھا ، وہ ایک قابل قدر شخص تھااور خدا کے نزدیک اس کی حیثیت اعلیٰ وارفع تھی ۔؛ یہوداہ اس نے دوزخ کی اس لئے خواہش کی کہ خدا کی یاد میں جولطف وہ لیتا تھا ،اس کے لئے کافی تھا۔اس نے سوچا کہ خوشی ، اچھائی کی طرح ،ایک خدائی صفت تھی جسے انسانوں کوغصب نہیں کرنا چاہیئے۔
یہ حقیقت جاننے کے بعد ، بہت سے لوگوں کو یہ معلوم ہوا، کہ نلس ُرونےبرگ نے جو منصفانہ ابتدا کی ،شاہ خرچی کے خاتمے پر مبنی تھی ،اور یہ کہ ڈین ہیملج فرلسیرن کرسٹس اوچ جوڈاز کی محض بدفعلی اور ناراضگی ۔ پریشانی ۔ خفا ہونا ۔ غصہ ۔ بڑھتی ہوئی ناراضگی ۔ عدم اطمینان کا اظہار تھا۔اس نے دوسال بعد اس کی نظر ثانی کر کے پبلشر کودی جو اکتوبر 1909 میں پیش لفظ ایک عبرانی عالم ایرک ارفجفرڈ کی اس نقشِِِ تحریری سے ہوئی۔اس نے لکھا :وہ اس دنیا میں تھا اور ، اور اس نے دنیا بنائی تھی، اور دنیا اسے جانتی تھی۔اس کتاب کی عمومی دلیل پیچیدہ ، نہیں تھی لیکن اس کا نتیجہ دیو ہیکل تھا۔۔ اس نے کہا کہ خدا انکساری سے اپنی عظیم برتر پوزیشن سے جھکا
اور انسانوں کی نسلی بقا کے لئے کے لئے آدمی تخلیق کیا گیا،اس سے ہم یہ فرض کرسکتے تھے کہ اس نے جو قربانی دی وہ صحیح تھی، کوئی غلطی نہ تھی اور فسخ یا کمزوراور ہلکی نہیں تھی۔اس کیو صلیب پر لٹکائےجانے سے جوتکالیف اورذہنی کرب جو ایک سہہ پر کو اسے اٹھا نا پڑا وہ کافرانہ عمل تھایہ دعویٰ کہ وہ ایک انسان تھا،کے باوجود وہ گناہ کرنے کو قابل نہ تھا۔، تضاد پیدا کرتا ہے۔، اس کی بے گناہی اورانسانیت ناموافق ہیں۔شفیع ( حضرت عیسیء کا لقب ) کو یہ اجازت تھی کہ وہ تھکن،سردی ،گرمی، بھوک اور پیاس محسوس کرسکتا تھا؛ اس بنا پر کوئی یہ بھی اخذ کرسکتا تھا کہ وہ غلطیاں اور گناہ بھی کرتا ہوگا، اور اسے مطعون بھی کیا جا سکتا تھا جس پر دوزخ کاعذاب بھی نازل ہو سکتاتھا۔ بعض لوگوں کے نزدیک عیسیٰ کے مشہورالفاظ یہ تھے کہ وہ ایک نرم ونازک پودے کی مانند اس کے سامنے نمو پائے گا،اور اس کی جڑیں خشک زمین کے اندر ہوں گی؛اور اس کا نہ کوئی رُوپ ہوگا ، نہ کوئی شکل ہوگی اور نہ ہیخوبروہوگااور جب ہم اسے دیکھیں گے تو وہ اتنا خوبصورت ہو گا جس کی کوئی مثال نہیں جس کی تمنا کی جاسکتی تھی۔ اسے انسان مسترد کردیں گے؛ایک ایسا شخص جس نے ندامتوں کا بوجھ اٹھایا ہوگا،اور وہ غموں سے واقف ہوگا،حضرت عیسیٰءکی صلیب کواس کی موت کے وقتپیش خیمہ ہوناکرے گا۔کچھ علماء کے نزدیک
(Hans Lassen Martensen)مثال کے طور پر وہ ایسے لوگوں کو جو حضرت عیسٰیءکے بارے میں گستاخانہ خیالات رکھتے تھے؛ ایسے لوگ نلس ُرونے برگ کے نزدیک گوشت پوست کے بارے میں واضح پیش گوئی رکھتے تھے ، لمحاتی نہ تھی بلکہ مستقبل میں مستقل ا اور ابدی پنائی جانا تھی ۔ خدا نے انسان کو مکمل پیدا کیا تھا لیکن وہ انصاف کی سطح پر پہنچ گیا ، اور مکملآوارگی اورگہری کھائی میں اتر گیا۔ہمیں بچانے کے لئے وہ کائنات میں سے کسی کو بھی چن سکتا تھاجس سے تاریخ گڈ مڈ ہو سکتی تھی۔وہ یاہودہ کے وجود میں سکندر اعظم، فیثا غورث ،رورک یا حضرت عیسیٰ ہو سکتا تھا ۔
وہ سٹاک ہام اور لُنڈ کے بک سٹور پر وحی لانے میں ناکام رہا ۔ بہت سے علما نے اس پر غورو خوض کیا، اسے استخراجی ، بے ذائقہ اور مشکل مذہبی کھیل سمجھا۔ اس عقیدے کی پیروی میں بعض مذہبی علماء نے مایوسی کا شکار اور حقیر سمجھا۔ نلس رُونے برگ نے اسےعمومی بے حسی سے تقریباًایک معجزے کی تصدیق کی۔خدا نے اس بے تعلقی کا حکم دیا تھا ؛ خدا نہیں چاہتا تھاکہ اس کے اذیت دینے کاراز پوری زمین تک پھیل جائے۔نلس ُرونے برگ کو احساس ہو گیا کہ صحیح وقت ابھی نہیں آیا تھا۔اسے احساس ہوا ک کہ قدیم ، برائیاں اس میں موجود تھیں۔اس نے علیجاہ اور موسٰی کو بلایا جنہوں نے اپنے چہرے پہاڑوں پر جاتے ہوئے چھپائےہوئے تھے کیونکہ خدا کی تجلی دیکھنے کی ان میں قدرت نہ تھی۔ وہ ایک پرانے عہد نامے کی کتاب جو یسعیاہ کی پیشین گوئیوں پر مشتمل ہے کی آیات کے مطابق وہ ا س وقت خوفزدہ ہو گیا جب اس کی آنکھوں نے وہ نظارہ دیکھا جس کی عظمت اور شان وشوکت زمین پر تھی۔ آبشارSaul، جس کی آنکھیں دمشق جاتے ہوئے اندھی ہو گئیں؛اس وقت یہودیوں کے مذہبی علم ربی ایک پرانے عہد نامے کی کتاب جو یسعیاہ کی پیشین گوئیوں پر مشتمل ہے۔مشہور ریبی جان ویٹربو نےتثلیت خدا ، خدا کا بیٹا اورخدائی روح دیکھ کر پاگل ہو گیا تھا کی آیات ؛ Midrashim مدارشی تفسیر ، جو ان کو پرہیز کرنے کی تلقین کرتی ہیں تسلیم کیں ۔نلس ُرونےبرگ نے خدا کاخفیہ نام Shem Hamephorashرکھا تھا۔کیا وہ ایک بھیانک انحراف تھا،اس جرم کے لئے اسے سزا دینا چاہیئے تھی کیونکہ وہ مقدس بھوت کی بے حرمتی کی تھی اس لئے اس نے کفر کا مرتکب ہوا اور اسے ہرگز معاف نہیں کرنا چاہیئے۔
Valerius Soranus نے جب روم کا خفیہ نام ظاہر کیا تو اس کی موت واقع ہو گئی؛اس کی سزا نلس ُرونے برگ کو دینی چاہیئے تھی جب اسے پتہ چلا کہ خدا کا خفیہ نام ہے اور اس نے راز افشاکردیا؟
شراب پینے کے بعد بےخوابی اور اونگھ کے لہجے میں گفتگو ، نلس ُرورےبرگ مالمو کی گلیوں میں مارا مارا پھرا،اور رو رو کر معافیاں مانگتا رہا ۔۔لیکن اسے جہنم سے نجات دلانے والے سے معافی مانگنا چاہیئے تھی۔وہ یکم مارچ 1912 کوشَریان پھٹنے سے فوت ہوا۔کافرشائد اسے یاد کریں گے۔؛اس نے اپنی طرف سے بیٹے کا تصور پیدا کیا، جس کا مطلب لمبا سانپ ہےجس سے مراد پیچیدگی اور شیطانی پن ہے۔
تجزیہ
بورجس ' ایک مسئلہ ' ( اے پرابلم ) میں ماورائی تخیل سے حضرت عیسی ٰ ؑ کو شامل کرتا ہے۔وہ اس میں ایک ایسے سوال کا ذکر کرتا ہے جو مدتوں سے علمی تنازعے کی شکل اختیار کئے ہوئے تھے ۔'اگر حضرت عیسیٰؑ سولی پر نہ چڑھتے بلکہ اپنی فطری عمر گزارتے تو کیا ہوتا؟'ایسا قیاس ہوتا تو مسیحیت کے نظریے میں کاری تبدیلی پیدا ہو جاتی۔بورجس اس افسانے میں اس قضیے پر بحث کرتا ہے کہ حضرت عیسیٰؑ اگر اپنی طبعی عمر گزارتے اور سولی پر سے اٹھا نہ لئے جاتے توان کے معجزات کو دنیا بھول جاتی اور ان کے پیروکار تتر بتر ہو جاتے۔اس کہانی کا بنیادی رمز یہ ہے کہ اگر وہ زندہ رہتے ، تو الٰہیات کا تصور ۔۔۔ قربانی ،احیا، حشر جو اس عقیدے کی بنیاد ہیں ، برقرار نہ رکھے جا سکتے۔زندہ رہنے سے وہ ایک عام انسان بن جاتے ، ان کی موجودگی بھی دوسرے لوگوں کی طرح کی ہو جاتی۔ان کادیومالائی تصور جاتا رہتا۔ان کا بھرم ٹوٹ جاتا۔بورجس اسے مذہبی تناظر اور کلمہ کفر کے تناظر میں نہیں دیکھتا بلکہ اس قصے کو فلسفیانہ سوال کے طور پر دیکھتا ہے کہ کس طرح بیانیہ، قربانی،اور اعتقاد کی تشکیل ہوتی ہے۔وہ ان معجزات اور واقعات کونہ صرف اس نظر سے دیکھتا ہےجس طرح وہ وقوع پذیر ہوئے ہیں ، بلکہ ان حالات کو بھی شامل کرتا ہے جن کے تحت وہ واقعات پیش آئے، یا یاد کئے جاتے ہیں اور کیسے ترتیب دیئے گئے۔
یہ افسانہ اگرچہ مختصر ہے لیکن جب اسے تاریخ کی روشنی اور اس کی علامتی قوت کے تناظر میں دیکھی جائے تو تناؤ پیدا کرتی ہے ۔
اس افسانے میں بورجس اس فلسفے پر کہ یہودی مذہب اور مسیحی مذہب کس طرح وجود میں آئے کی تاریخی حقائق اور دیومالائی سچائی میں کشیدگی پائی بیان کرتاہے ۔ اگر مزید وسعت سے مطالعہ کیا جائے، تو مریدوں کا اعتقاد پر ایمان نہ صرف ان معجزات اور واقعات پر ہوتا ہے جو ان کے دور میں واقعتاً رونما ہوتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ ان کے حافظے جو بیانیہ بناتے ہیں، کی علاماتی حیثیت بیان کرتا ہے۔حضرت عیسیٰؑ کا سولی پر چڑھائے جانے اور اٹھائے جانے کے سانحات صرف تاریخی واقعات ہی نہیں ؛ بلکہ وہ ستون ہیں جن پر ایمان اور اعتقادات قائم کئے گئے ہیں ۔بورجس یہ خیال کرتا ہے کہ اگر وہ ؑسولی پر چڑھنے کی بجائے قدرتی رحلت پاتےتو مسیحی مذہب کی طاقت کا زور ٹوٹ جانا تھا ۔وہ آبی بخارات بن کر اڑ جانا تھا۔یہاں بورجس کے اس نظریے کو تقویت ملتی ہے کہ داستانیں ، قصے، افسانے کس طرح بنائے جاتے ہیں ، کیوں کچھ عقائد مستقل شکل اختیار کرتے ہیں اور کس طرح وہ دوام حاصل نہیں کر پاتے۔
اس افسانے میں ایک اہم نکتہ الٰہیت کا من مانے بیانات کا بنایا جانا ہے۔۔۔۔افسانہ یہ سوال کرتا ہے کہ آیا ذات خداوندی اس واقعے کے اندر پنہاں پائی جاتی ہے یا اس طریقے میں جس طرح اسے دوسروں کے سامنے پیش کر کے محفوظ کیا جاتا ہے۔بورجس انسانی احتیاجات اور قربانی کے دائمی مباحثے کو کسی نتیجے پر لانے کی کوشش کرتا ہے۔اس کسوٹی کو سامنے رکھ کر بورجس فنا پذیری کو شامل کرتا ہے ۔ انسانوں اور ان کے خیالات اور نظریات موت کی وجہ سے ختم ہوتے رہتے ہیں۔اس طرح یہ افسانہ قربانی کے آغاز، اقسام اور ان کے طریقوں، شناخت اور تجاوزات پر بات کرتا ہے۔
بورجس نے یہ افسانہ مذاہب کو للکارنے کے لئے نہیں لکھا، بلکہ اس کا مقصد ہر مذہب کے ایمان اور اعتقادات کے واقعات معلوم کرنا تھاکہ وہ کس طرح تشکیل پائے۔اس نے ان کا مفروضات
بناکر مطالعہ کیا۔۔۔جیسے حضرت عیسیٰؑ اگر حیات رہتے اور سولی سے نہ اٹھائے جاتے اور طبعی موت سے رخصت ہوتےتو ان کے عقائد کیا ہوتے ۔کیا ان کے پیروکار اسی شدومد سے ان کے احکامات پر چلتے۔اس افسانے کی قوت اس کے ضبط اور روک تھام پر ہے۔وہ مذاہب پر تنقید نہیں کرتا بلکہ اس نازک میکانکی عمل کا ذکر کرتا ہے کہ علامات اور تاریخ کس طرح آپس میں ضم ہوتے ہیں۔اس طرح سے یہ بورجس کی تخلیقی قوت کاکارنامہ ہے: جس میں اس بات کی تحقیق اکی جاتی ہے کہ افسانوں، من گھڑت قصوں اور اصلیت میں کیا فرق ہے۔اس کے علاوہ انسانی سوجھ بوجھ کی حدود اور ماورائی معلومات کا ڈھانچہ کیا ہے کا کھوج لگاتی ہے ۔وہ یسوع مسیحؑ کی فطری حیات کا مفروضہ اس لئے پیش کرتا ہے کہ اسے اس مذہب کی میراث ، یادداشتوں، اور موت کا جائزہ لے سکے کہ وہ کس طرح اپنے پیروکاروں میں ان کے گروؤں کی عظمت اور عقائد مضبوط کرتے ہیں۔
بورجس کی دلچسپی اس بات میں نہیں کہ کسی مذہب کے عقائد کیا ہیں، بلکہ وہ یہ جاننا چاہتا کہ وہ
عقائد کس طرح قائم ہوئے۔مذہبی ،جغرافیائی ، اقتصادی، معاشرتی اور سیاسی ماحول کیسا تھا۔کن واقعات کی بنا پر کوئی عقیدہ بنا۔وہ قاری کو اس بات پر راغب کرتا ہے کہ وہ از خود تحقیق کرے کہ کسی عقیدے کے پیچھے اصل وجوہات کیا تھیں اور وہ کیسے تشکیل پائے ، کس نے کیوں اختلاف کرکے نیا عقیدہ بنایا۔ اس کی وجوہات کیا تھیں۔ کیا وہ قائم دائم رہا یا عقیدے میں کمک نہ ملنے کی وجہ سے دم توڑ گیا۔اگر ایسا مطالعہ کیا جائے تو سچ اور بناوٹ میں تفریق کی جا سکتی ہے۔اس نے مسیح مذہب کی مثال لے کر علمی تنازعات لی بحث چھیڑی ہے۔
اس نے اس افسانے کا عنوان ' ایک فلسفیانہ مسئلہ' ( اے پرابلم ) اس لئے منتخب کیا ہے کہ وہ اس میں عقائد کی تشکیل کے مسائل کی نوعیت اور حل کو علمی مباحثے سے حل کرنا چاہتا ہے۔اس میں وہ ہر قاری کو شامل کرنا چاہتاہے تاکہ وہ اپنے علم ، تجربے، ذہانت اور بصیرت سے اس پر رائے دیں اور کسی حتمی نتیجے پر پہنچیں۔اس کا مقصد مذاہب میں نفرت پھیلانا نہیں بلکہ یہ ثابت کرنا ہے کہ اگر ایک مذہب کے پیروکاروں نے جو عقائد اپنے مخصوص ماحول میں اپنائے ہیں ، اگر کسی دوسرے مذہب کا پیروکار اس مخصوص ماحول میں ہوتا تو اس کے بھی اس جیسے عقائد بن جاتے۔اس طرح سے وہ تاریخ اور قصوں ، دیومالاؤں اور حقائق میں ادغام پیدا کرتا ہے اور پیچیدہ فلسفیانہ پس منظر کے تحت قاری کو تحقیقات کے ذریعے تہہ تک پہنچنے کا مشورہ دیتا ہے
۔اس طرح وہ من گھڑت قصوں، تاریخ کے بیان جو مورخین نے تعصب میں بیان کئے ہوتے
ہیں،اور حقائق تک رسائی حاصل کرنے کا مشورہ دیتا ہے۔وہ قاری کو بتانا چاہتا ہے کہ اگر کسی ایک واقعے کے بیان میں بہت معمولی سی غلطی رہ جائے ، یا مبالغہ آرائی ہوجائے یا سنگینی کم کرکے دکھائی گئی ہو تو مستقبل میں تباہ کن نتائج پیدا ہو جاتے ہیں۔عقائد،موت میں وسیع خلیج پیدا ہو جاتی ہے۔ بورجس نے نہائت دانشمندی سے ایمان سازی ، داستان گوئی ، اسطوریات کو انسانی ثقافت کے تحت کیا ہے۔
بورجس کا یہ فلسفہ پاکستان پر بھی پوری طرح لاگو ہے۔ یہاں عوام میں مذاہب بہت اہم ہیں۔ کسی عقیدے کے پیروکار تن من دھن سے اپنے مذہب کی پاسداری کرتے ہیں۔یہ افسانہ بڑی منطق سے اس بات کی دلالت کرتا ہے کہ ہر عقیدے کا معروضی طور پر جائزہ لیا جائے کہ کن حالات اور کس ماحول میں عقیدہ تشکیل ہوا اور کن وجوہات کی بنا پر عقائد میں اختلافات پیدا ہوئےاور ان اختلافات کو کیسے مٹایا یا کم کیا جا سکتا ہے۔ہر عقیدے کی فلسفی افکار سے اعتقادات کی بنیادوں کا مطالعہ کرےاور جائزہ لے کہ اس عقیدے کی علامات، استعارے، مقولے وغیرہ کیسے قائم ہوئے،انہیں تسلیم کرے اور انہیں رد نہ کرے بلکہ کوئی درمیانی راستہ نکالے۔پاکستانی معاشرہ ادبی، علمی اور تشریحی اور تاریخی واقعات پر مشتمل ہوتا ہے ۔بورجس کی خواہش ہے کہ قاری ہر عقیدے کا علم و دانش جائزہ لے اور قربانی، اپنی طرف سے بنائے گئے قصے کہانیوں ، اور ہر مذہب کی روایات کا مطالعہ کرکے سچ پر مبنی روحانی بیانیہ بنائے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔