Greek Triolgy Sophocles Final

 

 

  قدیم یونانی مثلثیات

(496 )B.C…….406 B.C

سوفوکلیز(خالق  لوک رہس  حکایات)

Sophocles


حالات زندگی 

سوفوکلیز 496ق۔م کو یونان میں ' کولونس ' کے مقام پر جو ایتھنز اورتھیبز  کی سرحدوں کے درمیان واقع تھا میں پیداہوا۔ اس کا والد سوفیلی یس کے  اسلحے کی فیکٹری تھی ۔وہ زمانہ یونانی   علوم و فنون کے تخلیقی دورکاتھا۔سوفوکلیز کرشماتی شخصیت کا مالک تھا۔سکول کے زمانے  سے ہی اس نے مسلسل موسیقی اور ریسلنگ میں اول پوزیشن حاصل کرنا شروع کر دی تھیں۔ وہ بہت اچھا موسیقار بھی تھا۔سولہ سال کی عمر  سے  ہی اس کی عظمت کو تسلیم کیاجانے لگاتھا۔جب   اسے کریک سی  کے جش منانے کے لئے  قومی سطح کی موسیقی کے مقابلے  کے سلسلے میں  منعقد کی گئی تھی کو اول انعام  سے نوازا گیا تھا۔

 468 B.C  میں  اس نے اپنے دور کے صف اول کے ناقابل  تسخیر تمثیل نگار   ایشکی لس  (   B.C. 525-456)    Aeschylusکو  شکست دے ڈرامہ نویسی  میں اول انعام حاصل کیا۔ اس کے بعد اس نے پیچھے مڑ کر نہ دیکھا اور کم و بیش ہمیشہ قومی مقابلوں میں  اول انعام  جیتتا رہا۔ جوانی میں ہی وہ منتظم منتخب ہو گیا جو  کہ اعلیٰ عہدہ تھا۔ وہ دو بار سٹیٹ افسر منتخب ہوا ۔اس نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ 443 ق۔م میں ترپن  برس کی عمر میں وہ سلطنت کا وزیر خزانہ بن گیا۔وہ کم از کم دو دفعہ جرنیل کے عہدے پر بھی  منتخب  ہوا ۔ وہ  فلاح و بہبود میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا کرتا تھا۔   وہ مذہبی شخص تھا ۔ اس  نے پادری کے فرائض بھی سر انجام دیئے۔ اس نے اپنا گھر ایسکلی پییس ادویات اور علاج و معالجہ کا  جودیوتا تھا کی عبادت کے لئے مختص کردیا جسے بعد اسے باقاعدہ عبادت خانے میں مستقل طور پر تبدیل کر دیا گیا۔  

(پلوٹارش  )کے مطابق سوکلیز کی ادبی کاوشوں میں تین ادوارآئے۔ابتدائی دور میں وہ  ایشکی لس کی تقلید میں دیوتاؤں اور انسانوں کے تال میل، پیغام رسانی پریشانی اور ابتلا  کے موضوعات  پر لکھا۔جس میں ہیرو  بہت سی آزمائشوں  سے گزر کر  حالات کو کامیابی سے حل کر لیتا  ہے ۔دوسرے مرحلے میں اپنی تصانیف  میں  اس نے اپنےو بنیادی کرداروں  میں ایک اور کردار کا اضافہ کیا۔ تیسرے مرحلے میں اس نے کورس میں بارہ گلوکاروں کی بجائے پندرہ گلو کار کر دئیے ۔ ڈراموں میں مناظر، تصاویر اور گیت سنگیت شامل کئے جس  سے ناظرین کی دلچسپی میں اضافہ ہو گیا۔   

اس نے اپنے ڈراموں میں ناصح کا کردار بھی ادا کیا۔ دنیا میں برائی کیوں ہےاور اچھے انسان کو آزمائشیں اور مشکلات کیوں پیدا ہوتی ہیں کے بارے میں  کہا کہ اس کی وجہ معاشرے میں تنظیم، توازن اور انصاف کی فراہمی کا نہ ہونا ہے۔اس کا ماننا تھا کہ شخص خواہ کتنا ہی اچھا کیوں نہ ہو اگر وہ دیوتاؤں کے احکامات  کی پاپندی نہیں کرتا تو اسے قدرت کی طرف سے ضرور سزا ملتی ہے۔سوفوکلیز نے دو شادیاں کیں۔ پہلی بیوی  نامنیکوریٹس  تھی جس سے اس کسے دوبیٹے  سوفوکلیزجونیئراور  آئیئوسفان  ہوئے جبکہ دوسری بیوی  تھیئورس  تھا، سے ایک بیٹا ارسٹن ہوا۔  

اس نے 125   ڈرامے لکھے۔ اس زمانے میں یہ قاعدہ تھا کہ ایتھنز کی سالانہ قومی  جشن میں ایک  تمثیل کار زیادہ سے زیادہ چار ڈرامے پیش کر سکتا تھا ۔اس نے لگاتار تیس اکتیس سال تک چار چار ڈرامے لکھ کر پیش کئےاور  ہر بار پہلی پوزیشن حاصل کی۔ ر دوسرے  عظیم  تمثیل  نگار یوریپیڈس ( Euripides) کے مقابلے میں بھی  4  مقابلے جیتے۔ اپنی  پوری زندگی میں اس نے کم سے کم جو پوزیشن مقابلے میں حاصل کی وہ دوسری تھی۔ 404 ق۔م  میں جب ایتھنز نے سپارٹا پر قبضہ کیا تو اس فتح سے پہلے ہی فوت ہو گیا۔ اس کے ان ڈراموں میں صرف سات  ڈرامےہی اس  دنیا تک پہنچے جو درج ہیں:            

سوفو کلیز  سدابہار ادیبوں میں سے ایک ہے۔ اس کا اثر ورسوخ  بعد میں یورپ کے عظیم تمثیل نگاروں میں قائم  رہا۔ وہی آنا کے مشہور سائئیکاٹرسٹ سگمنڈ فرائیڈ نے اس کے المناک ڈرامہ اڈیپس بادشاہ سے متاثر ہو کر اڈیپس کمپلیکس اور الٹرا کمپلیس کی  اصطلاحات اپنے نظریہ شخصیت اور طریقہ علاج میں متعارف کروائیں ۔

یہاں اس کے تین المناک ڈراموں  جنہیں مثلثیات سوفوکلز کہتے ہیں جو درج ذیل ہیں۔

1۔ایڈیپس  بادشاہ

2۔ایڈیپس کولونس میں

3۔اینٹگنی

1۔ایڈیپس بادشاہ سوفوکلیز  نے یہ  ڈرامہ  )  میں پیش کیا۔ ایڈیپس یونانی ریاست تھیبز  میں پیدا ہوا۔ اس کا والدلائییس تھیبز  کا بادشاہ تھا۔ اس کی ماں کا نام جوکاسٹا تھا۔           ایڈیپس  کی پیدائش پر نجومیوں نے پیشین  گوئی کی تھی  کہ وہ  اپنے خاندان کے لئےمنحوس ثابت ہو گا۔ نہ صرف خاندان کی تباہی  کا باعث ہو گا بلکہ وہ اپنے باپ کو قتل کرکے اپنی والدہ سے شادی کر لے گا۔ اس بنا پر اس کے والدین نے اپنے خاندان کو اس کی نحوست سے چھٹکارے کے لئے(جب وہ تین دن کا تھا  )اپنے ایک وفادار کے سپرد کر کے کہا کہ اسے پہاڑ سے پھینک کر قتل کر دے۔ وہ بہت خوبصورت تھا۔ سپاہی کو اس پر ترس آ گیا۔  اس نے اسے قتل کرنے کی بجائے پڑوسی ریاست ایتھنز کے ایک چرواہے کے حوالے کر دیا ۔ اس کی خوبصورتی دیکھتے ہوئےایتھنز کے بادشاہ  اور ملکہ   نے اسے گود لےلیا رضاعی والد بادشاہ فیلی بییس اور رضاعی ماں جو ملکہ تھی کا نام ماروکوئن  تھنے اسے بڑے ناز ونعم سے پالا۔ بہترین تعلیم دلوائی۔ فنون سپہ گری میں یکتا کیا۔اسےحقیقی اولاد سے بڑھ کر پیا ردیا۔ وہ انہیں حقیقی والدین سمجھتا رہا۔ اسے ان سےبے حد پیار تھا۔ ایک دن ایک نجومی کے ذریعے اس پر یہ عقدہ کھلا کہ ایتھنز  کا  بادشاہ اور ملکہ اس کے حقیقی والدین نہیں تو اس پر سکتے کی کیفیت چھا گئی۔ پہلے تو اسے یقین نہ آیا پھر وہ دلبرداشتہ ہو کر اپنے صدمے پر قابو پانے کے لئے نقل مکانی کرکے  کولوس چلا آیا  جو ایتھنز اورتھیبزکی سرحد پر تھا۔اور افسردگی کا شکار ہو گیا۔احساس محرومی اور نا امیدی میں جا رہا تھا کہ  پانچ آدمیوں  کا  مسلح ٹولہ مخالف سمت سے آ رہاتھا۔  انہوں نے کولونس کے ساتھ بدتمیزی کی ۔ بات بگڑی تو ان میں لڑائی ہوگئی۔ ایڈیپس نے ان میں چار کو قتل کر دیا۔ ایک جان بچا کر بھاگ نکلا۔ان مقتولوں میں ایک امیر کبیر  تھا اور باقی اس کے محافظ لگتے تھے۔ ایڈیپس کا ان سے جھگڑنے یا مارنے کا قطعاً کوئی ارادہ نہیں تھا۔ انہوں نے لڑائی شروع کی اور بڑھائی تھی ایڈیپس کو اپنے دفاع میں لڑنا پڑا اور وہ مارے گئے۔ بات آئی گئی ہو گئی۔

ان دنوں پڑوسی ریاست تھیبز میں طاعون پھیلا ہوا تھا۔ سماوی آفات کی وجہ سے بادشاہ اور رعایا پریشان تھے۔ اس بلا سے چھٹکارے کے لئے وہاں کا بادشاہ  کوئی مداوا ڈھونڈ نےنکلا تھا کہ یہ سانحہ رونما ہو گیا۔ ایڈیپس اس بات سے قطعی طور پر لاعلم تھا کہ جس دستے کو ساتھ اس کی لڑائی ہوئی تھی، اس میں تھیبز کا بادشاہ بھی شامل تھا۔اسے اس بات کا قطعی علم نہیں تھاکہ مرنے والوں میں اس کا حقیقی والد بھی شامل تھا۔

تھیبز میں طاعون کی وبا  کا مداوا ایک بد روح دیوی سفنکس ہی کر سکتی تھی جس نے تھیبز کے عوام کو اس اذیت سے نجات دینے کے لئے پہیلیاںبوجھنے کی شرط رکھی تھی  ۔ وہ پہیلیاں اتنی مشکل ہوتی تھیں کہ انہیں کوئی حل نہیں  کر سکتا تھا۔ تھیبز کے لوگوں کو آفت سے  نجات  کے لئے  ہر خاص  و عام سے التجا کی  کہ کوئی نیک بندہ ان کی مدد کرے ۔ایڈیپس  رحم دل تھا،انسانیت کی خاطر اس نے قسمت آزمائی کی  اس بد روح  کی پہیلیاں حل کر دیں جس نے وعدے کے مطابق تھیبز کے عوام کو آفت سے نجات دے دی ۔ اس سے چند روز پہلےتھیبز کا بادشاہ اپنی ریاست  بچانے کے مشن میں ایک حادثے میں کام آگیاتھا ۔اس پر تھیبز کے عوام اس کے مشکور ہوئے اور عفریت سے چھٹکارا ملنے پر خوشی  اور اطمینان  ا کا سانس لیا۔انہیں اپنی ریاست کی حفاظت ، وباؤں سے بچاؤ اور خوشحالی کے لئے  ایک جری اور دانشمند قائد کی اشد ضرورت تھی جو انہیں ایڈیپس میں نظر آئیں۔ وہ اپنی شجاعت اور فہم و فراست کا  سکہ منوا چکا تھالیکن اس نے وہ کام انسانیت کی فلاح وبہبود کے لئے کیاتھا اور اس پر مطمئن تھا کہ اس کی کاوشیں کامیاب ہوئیں۔ جبکہ  ریاست  کی اشرافیہ  اس کے بارے میں کوئی اور فیصلہ کرکے بیٹھی تھی ۔ وہ اس کی صلاحیتوں کی معترف ہوگئی ۔ ریاست کو آشوب زدہ معاشرے میں کسی ایسے دانشمند،اور بہادر کی ضرورت تھی اس لئے تھیبز  کی حفاظت اور ریاست کی ترقی کے لئےایڈیپس کو بادشاہ بننے کی پیشکش کی کیونکہ ان کا بادشاہ فوت ہو چکاتھا اور وہ پوزیشن خالی تھی۔ لیکن ایڈیپس نہ مانا اور کہا کہ اس نے تھیبز کے عوام کو عفریت سےنجات انسانیت کے ناطے کی تھی لیکن اشرفیہ نہ مانی اور اسے زبردستی بادشاہ بنادیا۔ روائت کے مطابق اس نے بادشاہ کی بیوہ  'جوکاسٹا 'سے شادی کرلی جو در حقیقت اس کی حقیقی والدہ تھی لیکن اسے اس کا بالکل علم نہ تھا۔ 

ایڈیپس اور جوکاسٹا سے دوبیٹے اور دوبیٹیاں ہوئیں۔ بڑا بیٹا  پولی نیسز چھوٹا بیٹا  ایٹیوکلز ؛بڑی بیٹی انٹگنی اور چھوٹی  بیٹی ارزمینی تھی۔ اس طرح  سے اس کی حقیقی والدہ اس کی بیوی اورپولی نیسس بی، ایٹیوکلز، اینٹیگنی اور ارزمینی اور اڈیپس کی سگی والدہ  جوکاسٹاتھی، اس لحاظ سے وہ بھائی بہن بھی بن گئے۔اس  رشتے میں بیٹے بیٹیاں اور بھائی بہن بن گئیں۔ سب بچے جوان ہو گئے۔ سلطنت کے امور وہ بڑی خوش اسلوبی سے نبھاتا رہا۔

ایڈیپس دیوتاؤں کا عبادت گزار تھا۔ ایک دن وہ زیتون کے درخت  کی شاخوںمیں عبادت کر رہاتھا ریاست پر آفات سے نجات کے لئے یہ دعائیں مانگ رہا تھا  :

'اے ہم وطنو! میں ایڈیپس جس کی عظمت کے سب گن گاتے ہیں،تمہاری بھلائی کی خاطر یہاں موجود ہوں۔ تمہاری مشکلات سے بخوبی آگا ہ ہوں۔ میں تمہیں مشکلات سے نکالوں گا۔ میں اس لئے  یہاں آیا ہوں کہ برگزیدہ لوگوں اور دیوتاؤں سے معلوم کر سکوں کہ کس قسم کی آفات سے تمہارا واسطہ ہے اور مجھے کیا تدابیر کرنی چاہئیں جس سےتمہاری مشکلات کا خاتمہ ہو سکے۔ پجاریو، نیک بندو! تم مجھ سے علم اور عقل میں بڑے ہو دیوتاؤں کے قریب ہو، براہ کرم رہنمائی کرو کہ ان کی مشکلات کا سبب اور ان کا حل  کیا ہے؟ '

ان دنوں کالا علم،علم نجوم، جادو گر اپنے علم و فن سےمخصوص مقامات پر عبادت کرتے تھے جہاں انہیں الہام ہوتے تھے۔وہ یہ دعویٰ کرتے تھے کہ دیوتاانہیں راہ دکھاتے ہیں کہ کیاہونےوالاہے اور اس کا تدارک کیسے کیاجائے ۔انہیں پیمبر یاغیب دان کہاجاتاتھا۔ وہ  مقررہ معبد میں عبادت کرتے اور راز ان پر آشکار ہوجاتے۔ان پر دیوتا الہام کے ذریعے پیغام دیتے تھے۔ دیوتا ؤں کا ایک پیام بر جادوگراور غیب بین یک دم  دیوتاؤں  کی طرف سے پیغام لایا کہ تھیبز کو تباہی سے بچانے کے لئے  ایڈیپس کو اگرجلاوطن کر دیا جائے تو عوام الناس پرآنے والی مصیبت ٹل سکتی ہے اس نے گناہ کبیرہ کیا ہے۔ ایڈیپس اس ساحر کی بات سن کرششدر رہ گیا۔اسے یقین تھاکہ اس نے کبھی کوئی گناہ کبیرہ نہیں کیاتھا ۔وہ سپاہی جو کولونس کی مڈبھیڑ میں لڑائی سے بچ نکلا تھا ،نےگواہی دی کہ کولونس میں پانچ بندوں کے ساتھ مدبھیڑ میں جن چارلوگوں کو اس نے قتل کیاتھا ،اس میں اس کا باپ بھی شامل تھا جو اس وقت تھیبز کا بادشاہ تھا اور ایک شخص جو جان بچاکر بھاگاتھا ،وہ میں تھا۔اس نے چونکہ ملکہ جودرحقیقت س کی سگی ماں تھی ،سے شادی کرلی تھی اس لئے وہ گناہ کبیرہ کامرتکب ہواتھا۔ اس پر ایڈیپس کو اتنا احساس گناہ ہوا کہ اس نے اپنی آنکھوں میں سوئیاں مار کر خود کو اندھا کر لیا۔اس کی ملکہ جوکاسٹا  ( جودرحقیقت اس کی حقیقی والدہ تھی) نےشرمندگی سے خودکشی کر لی۔ تھیبز کو عذاب سے بچانے کے لئے جو مشورہ دیوتاؤں نےدیاتھا وہ اس کے بیٹوں نےاس پر عمل کیا اور ریاست کو تباہی سے بچانے کے لئےایڈیپس کو  تھیبز بدر کردیا۔ 

 اس کی  بڑی  بیٹی  'انٹگنی 'نے فیصلہ کیا کہ وہ کسی حالت میں اپنے والد کا  ساتھ نہیں چھوڑے گی۔ وہ اس کا ہر طرح سے اس کا  بھرپور ساتھ دے گی۔ اس  نے اسے تنہا نہ نہ چھوڑا اور سائے کی طرح ہر وقت اس کے ساتھ ساتھ  رہی۔دیوتا اسے ایتھنز اور تھیبز کی درمیانی ریاست کولو نس لے جانے والے تھے۔ ایڈیپس  کے اندھا ہونے کے بعد اس کی چھٹی حس بہت تیز ہوگئی تھی ۔وہ دیوی دیوتاؤں اور ماورائی ہستی پر یقین رکھتا تھا۔وہ زاہد وعابد تھا۔ اس میں پہلے ہی معجزوں، الہام، پیشین گوئی کے متعلق  بڑی اذکی قوتوں سے پیغام وصول کرنے اور اشاروں کنایوں کو سمجھنے کی صلاحیت تھی ، اندھا ہونے کے بعد ان میں بے حد اٖضافہ ہو گیا۔اس نے جو کچھ کرنا ہوتا ۔ برگزید ہستی اس کے ذہن میں ڈال دیتی  اور وہ وہی کرنے لگتا جس کی اسے ہدائت کی  جاتی تھی۔ وہ ہر وقت  گڑگڑا کر اپنے گناہوں کی معافی مانگتا رہا جو اس سے انجانے میں سر زد ہوئے تھے۔

تھیبز کی صورت حال غیر یقینی تھی ۔ کچھ پتہ نہیں تھاکہ آگے کیاہونے والا تھا۔اینٹگنی نے تو یہ من میں ٹھان  لیاتھاکہ وہ ایڈیپس کو کبھی نہیں چھوڑے گی اس لئے وہ اس کے ساتھ ہی تھیبز سے نکل پڑی جب کہ ارزمینی نے وہیں رکنے کا فیصلہ کیا تاکہ  کوشش کرے کہ بھائیوںمیں مصالحت ہو جائے اور وہ   جنگ کے بغیر  متفقہ طور پر کوئی فیصلہ کرلیں۔ وہ کوشش کرے گی کہ اس سلسلے میں کوششیں کرے۔  دونوں بھائیوں میں اتفاق ہو گیا کہ  دونوں بھائی   چھ چھ مہینے حکمرانی کریں گے۔ پہلے بڑا بھائی   پولی نیسس  چھ مہینے بادشاہت کرے گا ۔پھر چھوٹا بھائی'  ایٹیوکلز '۔ لیکن ان  کے ماموں کرس اون کے دل میں فتور آگیا اور اپنے چھوٹے بھانجے ایٹیوکلز ' کے ساتھ مل کر سمجھوتے کا پاس نہ کیااور اسے  تخت نشین کروادیا۔ پولی نیسسز نےیہ فیصلہ قبول نہ کیا اور اپنا حق لینے کا فیصلہ کیا جس پر اس کا چھوٹا بھائی اس کی جان کا دشمن ہوگیا جس پر پولی نیسسز   کو اپنی جان بچانے کے تھیبز سے بھاگنا پڑا۔ وہ ہمسائی ریاست  آرگوس چلاگیا اور بادشاہ کی بیٹی سے شادی کرلی۔ وہ پولی نیسس   کی مدد کے لئے اپنےاثرو رسوخ سےتمام قریبی دوست ریاستوں کی مدد سے بڑی فوج تیار کرنے لگا تاکہ بزور طاقت اپنے داماد کو تھیبز کی حکمرانی دلائے۔اب یہ طے تھا کہ دونوں بھائیوں کے درمیان گھمسان کی جنگ لازماً ہونی ہے  لیکن غیب دانوں نے انہیں آگاہ کیا تھا کی اس جنگ میں ایڈیپس کا کردار اہم ہے۔وہ جس کا ساتھ دے گا ۔ وہی  تخت نشین ہوگا۔ لیکن  دیوتاؤں نے شرط رکھی کہ اسے تھیبز میں دفنایا نہیں جائے گا، ازمنی  بے بس ہوکر وہاں سے اپنے باپ اور بہن کے پاس کولونس چلی آئی۔

پردہ گرتاہے۔۔۔۔۔

 

2)  ایڈیپس کولونس میں

 

بھوکے پیاسے ہونٹوں پر پٹٹریاں جمی پاؤں میں آبلے لئے وہ  چل رہے تھے۔ کئی گھنٹوں سے مسلسل چلے جارہے تھے۔ منزل کا پتہ تھا  نہ ٹھکانے کا۔وقت نے انہیں آگے کیا دکھانا تھا معلوم  نہیں تھا۔ ذلت کا احساس انہیں کھائے جا رہا تھا۔انہیں اندازہ نہیں تھا کہ وہ کتنی دور نکل آئے  تھے۔ اب تو حالت یہ ہو چکی تھی کہ ان کا ایک ایک پاؤں  من من  بھاری ہو گیا تھا۔آگے بڑھنامحال تھا ً ۔گرتے  پڑتے  باریش پیرانہ سال  شخص  ایڈیپس کے منہ سے نکلا۔ بیٹی !مجھ سے آگے چلا نہیں جا رہا۔ کیوں نہ کہیں سستا لیا جائے۔ اس نے اسے غور سے دیکھا۔ باپ کی  آنکھوں کی جگہ گڑھے تھے ۔ چہرہ خون سے تر تھا۔ لباس بوسیدہ اور  پھٹا ہوا تھا۔ وہ بھکاری لگ رہا تھا۔اسے دیکھ کر اس کے سینے سے ہوک اٹھی اور رونے لگی۔ 

 انسان کہنے کو تو اشرف المخلوقات ہے۔ اپنی طرف سے بہترین منصوبہ بندی کرتا ہے۔ جستجو سے اپنے وسائل بھر پور طریقے سے استعمال میں لاتا ہے۔ تمام تر تدابیر کے باوجود  کامیابی ناکامی کا دارومدار دیوی دیوتاؤں پر ہے۔ کبھی بالکل غیر متوقع طور پر ہما   سر پر آ بیٹھتا ہے اور تخت دلا دیتا ہے 'کبھی  سب کچھ معمول کے مطابق ہورہا  ہوتاہے ،  حالات مستحکم  لگ رہے ہو تے ہیں۔۔۔لیکن  قسمت  اچانک مٹی کے ڈھیر میں  بدل جاتی ہے۔ یہ  مسافر جو  در بدر  کی ٹھوکریں کھا رہا تھا  مفلوک الحال تھا اور لوگ انہیں بھکاری سمجھ رہے تھے حالانکہ وہ اور کوئی نہیں بلکہ تھیبز کا بادشاہ ایڈیپس اور شہزادی اینٹگنی تھی جسے ان کے اپنوں نے  ان کے حق سے محروم کر دیا تھا۔

'اینٹگنی  میری بچی ! یہ کون سی جگہ ہے۔ ہم کہاں پہنچے ہیں۔ہم اس حالت میں ہیں کہ کوئی نادار بھی اتنا بے بس نہیں ہوا ہو گا۔ آج ہم مفلس ہیں ۔ دربدر ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔کوئی پرسان حال نہیں۔ میں تھک گیا ہوں۔ مجھے کسی جگہ بٹھاؤ۔ میں سستانا  چاہتا ہوں۔اس کے علاوہ میں دیوتاؤں کی عبادت کرنا چاہتا ہوں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگنا چاہتاہوں۔'

'ابو جان! ہم  ایک انجان جگہ پر ہیں۔ آبادی  کے آثار نظرنہیں آ رہے۔آپ یہاں آرام کر لیں ۔'

 ابھی باپ بیٹی گفتگو کر رہے ہوتے ہیں کہ ایک شخص  وہاں آ جاتا ہے ۔                          

'آپ کون ہیں اور یہاں کیوں بیٹھے ہیں ۔شکل وصورت سے لگتا ہے کہ آپ طویل سفر سے آئے ہیں۔ تھکاوٹ سے ُ چورُ چور ہیں ۔'ایک شخص بولا ۔

ہم اس وقت کہاں ہیں نیک دل ش!ص؟ ایڈیپس نے پوچھا۔

آپ سوال جواب بعد میں کر لیں۔ آپ وہاں سے اٹھیں اور باہر آ جائیں۔ اس جگہ پر انسان نہیں بیٹھ سکتے۔ یہ دیوتاؤں کا مسکن ہے ،یہاں صرف  ان کے  نیک بندے جو پیامبر اور غیب دان ہیں یہاں عبادت کر سکتے ہیں۔

اینٹی گنی نے ارد گرد کا جائزہ لیا۔ اس نے محسوس کیا   کہ وہ جگہ زیتون   کے  درختوں کے ایسے جھنڈ  میں تھی جہاں نیک لوگ، کاہن اور جادوگر اپنی عبادت کرکے دیوتاؤں سے تجلی   اور بشارت حاصل کرتے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے نیک  روحیں آس پاس موجود تھیں ۔ارد گرد ایسے پتھر تھے جو معبد کے ارد گرد ہوتے ہیں۔ پرندے   میٹھی سروں میں  راگ الاپ ا رہے تھے۔بھینی بھین ہوا چل رہی تھی۔  ہر سو باغوں کی بہار تھی۔ مہک چھائی ہوئی تھی۔ایسا احساس پایا جا رہا تھا کہ غیبی قوتیں اس جگہ اور پجاریوں کی نگرانی کر رہی ہوں۔ '

' آپ جہاں بیٹھے ہیں وہ قابل اعتراض ہے۔ آپ کی بزرگی اور بری حالت کو دیکھتے ہوئے آپ کو اس علاقےسے تو نہیں نکالتامگر یہ ضرور کہوں گاکہ وہاں سے باہر آ جائیں جہاں آپ اس وقت بیٹھے ہیں۔ ' اس شخص  نے کہا۔

 'میں یہاں کچھ عبادت کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے یہاں بیٹھنے دو۔' ایڈیپس نے کہا۔ 

'آپ کو  یہاں سے اٹھنا ہی ہوگا،آپ یہاں سے نہ اٹھے تو میں ساتھیوں کو لے کر آؤں گا اوروہ اس  بارے میں فیصلہ کریں گے  کہ آپ کو یہاں بیٹھنے دیاجائے یا  یہاں سے نکال دیاجائے۔ یہ دیوتاؤں کی  جگہ ہے اور نیک لوگوں کو یہاں ماورائی قوتوں سےوحی نازل ہوتی ہے یا اشارے ملتے ہیں  کہ آگے کیا ہونے والا ہے اور اس سے کیسے نپٹنا  ہے ۔یہ ان کے لئے ہی مخصوص ہے۔ عام شخص یہاں قدم نہیں رکھ سکتا۔' اس نے کہا۔ 

'اس وقت  وہ  نیک بندے  کہاں ہیں دیوتاؤں  نے مجھ میں بھی  وجدان، کشف، الہام  اور خوابوں کی  تشریح  دویعت کی ہوئی ہے۔میرے ہاتھوں پر دیوتاؤں کے پیغامات بھی آجاتے ہیں۔ماورائی  قوتوں نے مستقبل کے بارے میں  مجھے آگاہی کا شعوربھی  عطا کیا ہوا ہے۔ آنے والے واقعات کاایک ڈھانچہ سا بتایا ہوا ہے۔  یہاں سانس لیا ہے تو میرے ذہن کے کسی گوشے سے آواز آ رہی ہے کہ  میں نے اس مقام پر ہی آکر رکناتھا۔کیا یہ دیوی یا دیوتا کا ٹھکانہ نہیں؟مجھے پتہ ہے  کہ یہ جکہ میری حفاظت کرے گی۔ یہ میری جائے پناہ ہے۔ یہاں ے مجھے کوئی نہیں نکال سکتا۔میرے مقدر میں ہے کہ میں  یہاں رہوں۔' ایڈیپس نے کہا۔ 'اس وقت میں ستاروں کی گردش کا مارا ہوں۔'

میری زندگی اپنی ڈگر پر زور شور سے رواں تھی  کہ اس پر یہ  افتاد آن پڑی۔ ااس کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں مفقود ہو گئیں  تھیں۔ وہ عرش سے فرش پر آ پڑا تھا۔  وہ عالم برزخ میں تھا۔وہ گنہگا ر تھا۔اس کے گناہ یقیناً بہت سنگین تھے۔ اس کو ان کی سزا بھی ملنی چاہئے تھی۔ لیکن سزا کے وقت پر اسے اعتراض تھا۔اسےسزا جرم یا گناہ کے فوراً بعد ملنا چاہیے تھی   جواسے بڑھاپے میں مل رہی تھی۔ جوانی بیت کر عہد پیری میں داخل ہو نے ، تک کا انتظار نہیں کیا جانا چاہئے تھا۔ دیوتاؤں نے برسوں انتظار کیوں کیا ا'ا س کی مجھ سے بالا تر تھا۔اس کے علاوہ ایک اور بات جو اسے کھائے جا رہی تھی وہ یہ تھی کہ اس نے جو کچھ بھی کیا تھا انجانے میں کیا تھا۔ اسے تو  فرد جرم سے سزا کے فیصلے تک معلوم ہی نہیں تھا کہ اس سے کوئی جرم سر زد ہوا تھا۔اور وہ سالہا سال تک ناپاک زندگی گزارتا رہا تھا۔وہی جگہ  جہاں اس کا طوطی بولتا تھا  ،اب  اس کے لئے عبرت  ناک  بن گیا تھا۔ وہی رعایا جو اس کے آگے آنکھیں بچھاتی تھی آج اس پر تھو تھو کر رہی تھی۔ دوسروں کا تو کیا کہنا وہ اپنی نظروں میں بھی گر گیا تھا۔اسے خودسے گھن آنے لگی تھی ۔ا س کی بیوی ملکہ جوگا سٹا بھی  بغیر شک کے ایسی  ہی اذیت  ناک کیفیت سے گزررہی تھی لیکن اس نے  مرکر جلد جان چھڑا لی تھی۔ شرمندگی اور گناہ کے بوجھ سے خود کشی کر لی تھی۔ اسے بھی خیال بھی نہیں آیا تھا کہ حالات نے اسے اپنے بچوں کی ماں بنا نے کے ساتھ ایڈیپس کے اپنی  دونوں  بیٹیوں(اینٹگنی اور ازمینی ) اور دونوں بیٹوں کو دوہرے رشتوں میں  جوڑ دیاتھا۔ اب صورت حال ایسی تھی کہ راز افشاں ہونے کے بعد اوروں کے ساتھ اپنوں نے بھی آنکھیں پھیر لی تھیں اور انکے بیٹے اور  بیٹیا ں اور بیٹے  اور سالا کری اون سب اس کے دشمن بن گئے تھے۔ وہ اس سے جلد سے جلد چھٹکارا  چاہتے تھے۔ کری اون ایڈیپس  کی بیٹیوں کو  جو اس کی بھانجیاں تھیں اپنے پاس رکھنا چاہتا تھا۔  لیکن  وہ اپنے باپ کے ساتھ ہی رہنا چاہتی تھیں۔وہ اس کی لاٹھی اور آنکھیں بننا چاہتی تھیں۔سب سے زیادہ  محبت کرنے والی سب سے بڑی بیٹی انٹگنی تھی جو اس کے ساتھ سائے کی طرح رہ رہی تھی۔چھوٹے بیٹے نے تھیبز بدر کردیاتھا اور بڑا بیٹا آس پاس کی ریاستوں سے فوج اکٹھا کر رہاتھا کہ  اس سے تخت چھین سکے کیونکہ بڑا بیٹا ہونے کے  تحت وہ خود کو تخت کا وارث سمجھتاتھا۔تخت کے حصول کے لئے اس کے دونوں بیٹوں میں رسہ کشی شروع ہو گئی تھی۔جرگے کے مطابق یہ فیصلہ ہوا تھا کہ دونوں بھائی مل کر حکومت ساز ی کریں گے۔چھ ماہ ایک بھائی اور چھ ماہ دوسرا بھائی حکومت کرے گا۔ ایڈیپس کو انہوں نے دیس نکالا دیا تو  اینٹگنی باپ  کے ساتھ چلی آئی تھی جبکہ اس کی دوسری بیٹی ارزمینی اس وقت وہاں  اس لئے رہ گئی تاکہ صورت حال کا جائزہ لے سکے۔ رہ گئی تھی۔ بیٹی تنگ دستی کے عالم میں یہاں پر بیٹھے برے حالات بھگت رہے تھے۔ سوچیں تواتر سے اس کے من میں گھیرا کر رہی تھیں۔  

' میری                       َچھٹی حس  بتارہی ہے کہ یہ معبددیوی ہوڈیٹیز کی آماجگاہ ہے جو انتقام کی دیوی ہے۔ وہ مجھے دیکھ رہی ہےکہ میں کس طرح اس کے انتقام کا نشانہ بن رہا ہوں۔ وہ یہ دیکھ کر مطمئن ہے کہ میں خوشی سے اپنے ایسے گناہوں کا  جو ناقابل معافی ہیں کا کفارہ ادا کر رہا ہوں ۔میں یہاں بیٹھ کرہدایات لینا چاہتا ہوں کہ  آگے میں نے کیا کرنا ہے۔ ہم اس وقت کہاں ہیں؟ مجھے اس جگہ کے بارے میں بتائیں۔'ایڈیپس نے استفسار کیا۔ 

'آپ شہر کے نزدیک ہیں۔تھوڑی دور آگے جائیں گے تو شہر کی رونقیں نظر آنے لگیں گی۔چہل پہل ہو گی  بازارہوں گے پیارے بزرگ۔ یہ جگہ اوسائڈن اور پروکتھیس کے پاس ہے۔ یہاں ابتھنز کے بادشاہ تھیسی یس کی حکمرانی ہے۔ '  

آنکھیں جانے کے بعد ایڈیپس نے محسوس کیا تھا کہ اس کے دوسرے حواس زیادہ مستعد ہو گئے تھے۔ اس کی چھٹی حس بہت زیادہ ہوگئی تھی۔اسے ماورائی طاقتوں سے ہدایات ملنا شروع ہو گئی تھیں کہ آگے کیا کرنا ہے ۔ کہاں جانا ہے۔ کدھر قدم بڑھانے ہیں۔ کیا بات کرنی ہے، کس سے کیا کہنا ہے۔اس کی غیب دانی اور الہامی وصائف    میں اضافہ ہو گیا تھا۔' 

'مہربان انسان۔ کیا آپ تھیسی یس بادشاہ  کے پاس جاکر بول سکتے ہیں کہ ایک شخص اسے بلا رہا ہے۔وہ اس سے ایک اہم بات کرنا چاہتا ہے۔اگروہ اس کا ذرا سا کام کر دے

گاتودیوتا اس سے خوش ہوں گے۔۔ یہ الہام اسے پہلے ہواتھا  کہ جب وہ کلونس کے پاس پہنچے تو اپنی مدد کے لئے  ایتھنزکے بادشاہ  کو  اپنے پاس بلالےاور اس سے درخواست کرے  کہ  وہ اسے   وہاں دفن کرنے کی اجازت دے  دے تو اس کی ریاست بیماریوں اور دشمنوں سے محفوظ ہو جائے گی۔  دیوتا اس پر خوش ہو جائیں گے اور اس کی سلطنت کو کبھی نقصان نہیں پہنچے گا اور سکون سے حکومت کر سکے گا۔اس لئے اس نے   اسے  کہاکہ  جائے اور بادشاہ  کودیوی  کا  پیغام دے دے۔' 

'ٹھیک ہے میں آپ کا پیغام اس تک پہنچا دیتا ہوں۔' یہ کہہ کر وہ شخص  چلا گیا۔ ایڈیپس خود کلامی کرتا ہے کہ' اے میری تقدیر کے مالک میں اپنی آخری منزل پر پہنچ چکا ہوں ۔ دیوتاؤ اور دیویو! آپ گواہ ہیں کہ گھناؤنا جرم مجھ سے سرزد ہواہے۔ یقیناً میں اس سزاکا مستحق ہوں  لیکن آپ سب جانتے ہیں کہ یہ مقدرمیں تھا۔ میں اور جوکاسٹا اپنے سابقہ رشتے سے مکمل طور پر لاعلم تھے۔ میں سزا پر سر تسلیم خم کرتا ہوں ۔ہر مجرم کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہئیے ۔ میرے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ نےجو جو سزا بھی تجویز کی ہے، وہ جائز ہے۔مجھے برداشت کرنے کا حوصلہ دو۔میں تمہارا ماننے والا ہوں ۔ ہمیشہ سے عبادت گزار رہا ہوں اور اب تو پہلے سے زیادہ ماننے لگا   ہوں۔ مجھے ہمت دے کہ میں ثابت قدم رہوں۔میں دیوتاؤں کا پجاری  رہ کرہی مروں اور اس جرم جس کی میں سزا بھگت رہا ہوں کے علاوہ میں نے کبھی حکم عدولی نہیں کی۔ایتھنا دیوی۔تجھے اپنی رحمتوں کا  واسطہ مجھے سیدھا راستہ دکھا۔'

اس نیک دل آدمی کے جانے کے بعدکچھ لوگ آتے ہیں۔ وہ اوڈیپس کو مقدس استھان پر بیٹھا دیکھ کر خفگی کا اظہار کرتے ہیں اور اسے وہاں سے باہر آنے کا کہتے ہیں۔ اینٹگنی اس کا بازو پکڑکر  باہر لاتی ہے۔وہ اوڈیپس  سے استفسار کرتے ہیں کہ اپنے بارے میں  بتائے۔

'کیا آپ نے لائیس اور اور ایڈیپس کا نام سنا ہے  جو تھیبز کے بادشاہ تھے۔ میں ایڈیپس ہوں جو کبھی بادشاہ تھا۔مجھ سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ مجھ سے دور نہ بھاگو۔میں دیوتاؤں کی درگاہ کا دھتکارا ہوا انسان ہوں۔میری بیٹی میرے ساتھ ہے۔'

'اوہ! تم ایڈیپس ہو۔ ہم نے تمہارے گناہ کبیرہ  کے بارے سنا ہے۔اس سے پہلے کہ ہم پر عذاب آئے یہاں سے فوری نکل لو ۔ 'ان کی بات سن کر اینٹگنی بولتی ہے۔

'میرے والد کی خستہ حالی دیکھو۔ اس کےزخم  اور بگڑی ہوئی حالت اور عمر دیکھو۔ اس کا نہیں تو میرا ہی خیال کرو۔ اپنے باشاہ کو بلاؤ۔ میں آپ کی بیٹی کی طرح ہوں۔ہم پر ترس کھاؤ ۔ دیوتاؤں کاواسطہ ، ہمارے ساتھ برا سلوک نہ کرو۔ میرا والد ایتھنز کے عوام کے  لئے کوئی خوشخبری لایا ہے۔جائیں اور اپنے بادشاہ کو لے کر آئیں۔'

لوگ یہ بات سن کر چلے جاتے ہیں۔دور سے ایک لڑکی آتی دکھائی دیتی ہے۔ وہ نزدیک آتی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ اس کی بہن ارزمینی ہے۔ وہ پہلے تو ان کے ساتھ نہیں آئی تھی اور حالات کا جائزہ لینے کے لئے تھیبز  رک گئی تھی۔ اب وہ ان کا پیچھا کرتے ہوئے تھیبزسے ان کے پاس پہنچ جاتی ہے 

'میری بیٹی  ارزمینی ۔تم  بھی آ گئیں۔' ایڈیپس نےخوش ہو کےکہا۔' جو کام میرے بیٹوں کو کرنا چاہئیے تھا وہ بیٹیوں نے کر دیا۔' 

'پیارے ابو جان۔ دنیا کے سب سے پیارےابو!مجھے آپ کی فکر تھی۔ وہاں کی تازہ ترین صورت حال  معلوم کرکے آنا چاہتی تھی۔  ہمارے دونوں بھائی جانی دشمن بن چکے ہیں۔ دونوں میں تخت کے حصول کی رسہ کشی کے نتیجے میں چھوٹا بھائی ایٹییو کلیز  دھوکہ بازی سے جیت  گیا ہے اور  پولی نائیسیز بڑی مشکل سے جان بچا کر بھاگ  نکلاہے اور پڑوسی ریاست اوگس میں  پناہ لے لی ہے ۔ وہاں کی شہزادی سے شادی کر لی ہے۔ جو اس کی حمائت میں اپنی فوجیں اکٹھی کر رہے ہیں۔اور دیگر ریاستوں سے بھی مدد حاصل کرنے کی کوشش کر رہاہے۔ماموں کری اون  نے ایٹییوکلسیز کی پشت پناہی کی  ہے۔ یہاں ایک خوشخبری آپ کے لئے بھی ہے۔ وہ یہ کہ دیوتاؤں نے آپ کی صاف نیت ، اطاعت گزاری اور جرم کے وقت لاعلمی کو مد نظر رکھ کر آپ پر رحم کھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔اس کے علاوہ ڈیلفائی کے دیوتا  سے غیبی پیغام آیا ہے  کہ تھیبز کی مشکلات دور کرنے میں آپ کا کردار  اہم ہو گیا ہے۔اگر آپ تھیبز گئے تواس کے بحران دور کر دیئے جائیں گے لیکن آپ کو تھیبز میں  نہ تو رہنے  اور نہ ہی ہی دفن کرنے کی اجازت ہو گی۔ تمہیں  کلونس میں مرنا  اور دفن ہونا ہوگا۔یہ پیغام دونوں بھائیوں  تک پہنچ چکا ہے اور وہ چاہیں گے کہ وہ آپ کا ساتھ  د یں۔کری اون جو آپ سے حقارت آمیز سلوک کا مرتکب ہوا  ہے، دیوتاؤں کی نئی ہدایات کے مطابق آپ کو واپس لے جانے کا ارادہ کر رہا ہے۔ کیونکہ آپ جس کے ساتھ ہوں گے۔ وہ ہی جیتے گا۔'ارزمینی نے ایک سانس میں  ساری بات کہہ ڈالی۔

'توبہ۔ میری توبہ ۔میں کبھی بھی ان کے ساتھ نہیں جاؤں گا۔ میرے ساتھ انہوں نے جو سلوک کر چھوڑا ہے اس پر وہ کسی امداد کے مستحق نہیں۔اگر دیوتاؤں نے مجھے تھیبز میں دفنانے کی اجازت نہ دی تو میں کبھی بھی وہاں نہیں جاؤں گا ۔ میرے بیٹے میرے دشمن نکلے۔میں انکے بارے میں کچھ بھی  سننے کا روادار 'نہیں۔ میری بیٹیاں ہی میری ہمدرد ہیں ۔وہ ہرحالت میں میرا ساتھ نبھا رہی ہیں۔میرے ساتھ کھڑی ہیں۔ارزمینی تم دیوی کے استھان پر جاؤ اور میرے لئے دعا  کرو۔' وہ   دعا مانگنے چلی جاتی ہے۔ اینٹی گنی اپنے باپ کو اطلاع دیتی ہے کہ 'میں  اس جگہ کے بادشاہ تھیسی یس آتا دیکھ رہی ہوں ۔'

' میں نے آپ کے بارے میں سب سن رکھا ہے۔ 'تھیسی یس آتے ہی کہتا ہے۔'میں آپ کا پیغام سنتے ہی چلا آیا۔بتائیے میں آپ کےلئے کیا کرسکتا ہوں۔آپ کو پریشان حالت میں دیکھ کو افسوس ہوا۔ 

'کچھ باتیں اس وقت تک دیوتاؤں کی طرف سے مجھ پر آشکار ہو چکی ہیں اور دیگر وقت کے ساتھ ساتھ اجاگر ہوں گی۔ اس وقت تو آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میرے بیٹے اور میرا سالا آپ کو مجبور کرے گا کہ مجھے ان کے ساتھ  واپس بھیج دے۔میں نہیں جانا چاہتا ۔میں انکار کردوں گا ۔ وہ آپ پر دباؤ ڈالیں گے تو آپ نے منع کر دینا ہے۔ مجھے دیوتاؤں اپالو اور زیوس کی طرف سے ابھی اشارات موصول ہوئے ہیں کہ  انہوں نے مجھ پر ترس کھا کر ذلت کی موت کی بجائے عزت کی موت میں تبدیل کر دیا ہے۔مرنا تو مجھے ابھی بھی ہے لیکن وقار کے ساتھ۔  ایک پیغام آیا ہے کہ اگر دیوتا کی شرائط پر  آپ عمل کریں گےا تو آپ کی سلطنت کو فائدہ ہوگا'  ایڈیپس نے کہا۔ 

'آپ کی آمد کا شکریہ،آپ کی میزبانی ہم پر فرض ہے۔ یہ سن کر خوشی ہوئی کہ دیوتاؤں نے آپ کی سزا میں تبدیلی کر دی ہے۔ میرے لئے اعزز کی بات ہو گی اگر آپ  میرے ملک ایتھنز کی شہریت قبول کر لیں۔ اگر آپ یہاں رہنا پسند کریں تو آپ  کو ہر قسم کی سہولیات مہیا کی جائیں گی۔ تھیسی یس نے پیشکش کی۔ رہا ،آپ کو یہاں سے کہیں اور لے جانے کی بات۔گھبرائیں نہیں آپ کی مرضی کے بغیر آپ کو یہاں سے کوئی بھی نہیں لے جا سکتا۔

'آپ کی مہربانی کا شکریہ لیکن میرے دن لد  چکے ہیں۔ دیوتا آپ کی حفاظت کریں۔آپ پر سدا رحمتیں نازل ہوں۔ 'ایڈیپس نے کہا۔   

'میں اوسائیڈن دیوتا کے  ملحقہ معبد سے ہو کر آتا ہوں۔اگر اس دوران میری ضرورت پڑے تو آواز دے دیں۔' یہ کہہ کر تھیسی ایس چلا جاتا ہے۔

'کری اون آرہاہےاس کے ساتھ مسلح محافظ  بھی ہیں۔'اینٹگنی نے گھبرائے ہوئے لہجے میں کہا۔

 ' مجھے دیکھ کر پریشان مت ہوں۔ میں کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا کیونکہ یہ میرا ملک نہیں ۔ اس کے علاوہ یہ ملک طاقتور ہے۔ یہاں میری دال گلنے والی نہیں۔ میری لڑنے  کی کوئی نیت نہیں۔پیرانہ سالی کے باوجود مجھے  بادشاہ ایٹیو کلیز نےمجبور کیا ہے کہ میں آپ کو واپس لاؤں ۔وہاں آپ کے باپ دادا کی قبریں ہیں۔ان کے  قریب ہو جائیں گے۔میں آپ کو اس حالت میں دیکھ کر بہت دکھی ہوا ہوں۔ایتھنز کےلوگوں کا شکریہ ادا کریں اور واپس چلیں۔ تھیبز کو آپ کی اس وقت شدید ضرورت ہے۔ آپ کے ساتھ جو ماضی میں ناروا سلوک ہو چکا ہے اس کو معاف کر دیں۔ سب سے پہلے تھیبز کا حق آپ پر ہے۔ان کا حق ان کو لوٹا دیں۔' کری اون نے مسکین صورت بناتے ہوئے خوشامدانہ لہجے میں ایڈیپس کو  کہا۔ 

'دیکھو کون کیا کہہ رہا ہے۔ مجھے دھکے دے کر میری جائے پیدائش سے نکالا ۔ان چکنی چپڑی باتوں سے کیا تم سمجھتے ہو کہ میں ان باتوں میں آ جاؤں گا۔ مجھے دیوتاؤں کی بشارت حاصل ہو چکی ہے کہ میرے وہاں جائے بغیر کسی کی بھلائی نہیں ہو گی۔ اس وقت کو یاد کرو جب مجھ سے جانوروں سے بھی بد تر سلوک کیا جارہا تھا۔ تم مجھے تھیبز لے جانے نہیں بلکہ اس کی سرحدوں کے باہر رکھو گے اور مار کے تھیبز سے باہر دفنا دو  گے۔ ایسا کیا جائے گا تو اس کی حکومت محفوظ رہے گی۔تم لوگوں کے لئے میرے سینے میں گہرا داغ ہے۔تم لوگوں کے لئے  میرے پاس بددعائیں غصہ اور انتقام ہی ہے۔ دعائیں اپنی بیٹیوں کے لئے ہیں جنہوں نے میرا بھر پور ساتھ دیا۔ تم میری درد ناک آہوں سے بچ نہیں سکتے۔ تمہارا حشر برا ہو گا۔میں نے مصمم ارادہ کرلیا ہے کہ جو وقت بچا ہے، زندگی یہیں گزاروں گا۔'ایڈیپس نے حتمی فیصلہ سنا دیا ۔

'میری بھانجیاں اور آپ کی بیٹیاں نازو نعم میں پلی بڑھی ہیں ۔ ایک تو میری بہو بھی بننے والی ہے۔ انہیں تو میرے ساتھ جانے دو ۔ 'کری اون نے کہا۔ اس نے اپنےمحافظوں کو کہا کہ 'انہیں پکڑ لیں۔ اگر کوئی مزاحمت کرے تو اسے قتل کر دیں۔انہوں نے بچیوں کو یرغمال بنا لیا تاکہ اسے بلیک میل کر کے ایڈیپس کو ساتھ لے جائیں۔'

'لوگو جاؤ ۔ تھیسی یس کو بلا لاؤ اور کہو کہ کری اون میری بیٹیوں کو زبردستی لے کر جانے لگاہے۔'۔ ایڈیپس چلایا۔ 

'اب تو میں تم کو بھی ساتھ لے کر جاؤں گا۔تم مجھے کیسے روک سکتے ہو۔  تم میرا کیا مقابلہ کرو گے۔جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ حکم تو طاقتور کا ہی چلتا ہے۔ 'کری  اون نے نے دھمکی دی ۔تمہارے ایتھنز کے بادشاہ   کو اس وقت تھیبز کو روکنے کی نہ تو جرآت ہے اور نہ ہی صلاحیت۔'کری اون نے دعویٰ کیا۔ 

ایڈیپس چیخنا چلانا شروع کر دیتا ہے'۔لوگو ۔تھیسی یس کو جلد از جلد بلاؤ۔کری اون کو روکو۔ وہ زبردستی کر رہا ہے۔وہ ظالم ہے۔اس کا پیچھا کرو اس سے پہلے کہ وہ سرحد پار کر جائے اسے روکو۔' اس کی چیخیں سن کر ایتھنز کا بادشاہ تھیسی یس  عبادت گاہ سے نکل آتا ہے۔ 

ایڈیپس  اسے صورت حال سے آگاہ کرتا ہے۔اور درخواست کرتا ہے کہ' کری اون کو روکے۔وہ مجھ سے میری بیٹیوں کو چھین چکا ہے اور اب مجھے بھی یہاں سے میری مرضی کے بغیر لے جانا چاہتا ہے۔ کری اون کو روکا جائے۔ایتھنز کی سرحدیں بند کر دی جائیں ۔وہ یہاں سے  نکلنے نہ پائے۔'ایڈیپس نے دوہائی دی۔ 

'تم اس وقت تک یہاں رہو گے جب تک تم ایڈیپس کی بیٹیاں واپس نہیں کرتے ۔بادشاہ تو انصاف کرنے والے ہوتے ہیں۔تم تو یہاں اپنے خاندان کے ساتھ بھی نا انصافی کر رہے ہو کری اون۔ہماری ریاست جہاں سب قانون کے تحت ہوتا ہےتمہاری من مانی نہیں چلے گی۔ ۔ تم نے تھیبز کے نام کو بٹہ لگا دیا دیا ہے۔تم یہاں سے اس وقت تک نہیں جا سکتے جب تک تم لڑکیوں کو ہمارے حوالےنہیں کرتے۔ تم اس وقت میری قید میں ہو۔' 

'کیا تم نہیں جانتے کہ جس کا تم ساتھ دے رہے ہو وہ ظالم ہے۔ بدکار ہے۔ گھٹیا ہے۔  راندہ درگاہ ہے۔اس نے اپنے باپ کو مارکر اپنی سگی ماں سے شادی کی تھی۔ دیوتاؤں نے اسے کڑی سزا دی ہے۔ بے آبرو کیا ہے۔اسےبےتو قیر کرکے مارنے کا حکم دیا ہے۔ایسے بد قماش شخص کو  تم ایتھنز میں  کیسے پناہ دے سکتے ہو۔یہ گھٹیا انسان اب تمہارے سامنے مجھے بد دعائیں دے رہا ہے۔ میرا دل یہی چاہتا ہےکہ اس کی گالیوں کا جواب اس سے بڑھ کر دوں۔' کری اون نے کہا۔ 

'کچھ  ہی دیر  پہلے یہ مجھے مسکے لگا رہاتھا ۔اب کیسے گرگٹ کی طرح رنگ بدل لیا ہے۔مجھ سے جو ہوا لاعلمی میں ہوا اور اس سزا کا مستحق  ہوں اور بھگت رہا ہوں۔میری جگہ کوئی بھی ہوتا تو ایسا ہی کرتا۔ا'یڈیپس نے کہا۔

بچیوں کو جنہیں  بھی دیاہے ،وہاں سے واپس لاؤ'۔ تھیسی  یس نے  کری اون سے کہا۔

'میں اس کا جواب  نہیں دوں گا۔' کری اون نے کہا۔

'جب تک انہیں واپس نہیں لاؤ گے یہاں سے جاننے کا سوچنا بھی  مت۔ تھیسی یس نے کہا ۔' تم اس وقت تک میرے قیدی ہو جب تک بچیوں کو میرے حوالے نہیں کر دیتے۔'

 کری اون نے  طوعاً و  کر  ہاً   بچیاں واپس کر دیں  تو تھیسی ایس نے اسے  واپس جانے دیا۔ 

'میں نے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ آپ اور آپکی بچیوں کی حفاظت کروں گا۔  میں نے وعدہ پورا کر دیا ہے۔ میں اس جھنجھٹ میں آپ کو ایک بات بتانا بھول گیا کہ جب میں عبادت

 گاہ میں تھا تو ایک لڑکا وہاں آیا اور آپ سے ملنے کی خواہش کی۔اس نے کہا کہ میں سفارش کروں کہ آپ اس سے مل لیں۔' تھیسی یس نے کہا۔وہ خود کوآپ کا بڑابیٹا بتاتاہے۔

'اگر وہ میرا بیٹا ہے تو میں اسے کبھی نہیں ملوں گا۔ ا' اس نے اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ مل کر مجھے تھیبز بدر کیاہے۔'ایڈیپس نے کہا

'ابو جان ۔وہ آپ کا خون ہے۔ آپ کو اس سے مل لینا چاہئیے۔ ایتھنز کے بادشاہ نے جس عمدہ طریقے سے آپ سے سلوک کیا ہے اس کی سفارش مان  لینی چاہئیے۔اپنے بیٹے  کی بات مانیں یا نہ مانیں آپ کی مرضی لیکن اس کی سن لیں ۔'اینٹی گنی نے  ایڈیپس کو قائل کرنے کے لئے دلیل دی۔'وہ لڑکا یقیناً پولی نا ئیسیز  ہی ہو گا ابو۔'

'ٹھیک ہے پیاری بیٹی۔میں اس سے بات کر لیتا ہوں۔لیکن تھیسی یس تمہیں مجھے اس سے بچانا ہے۔ ا' یڈیپس نے کہا۔

'میں آپ سے وعدہ کرچکا ہوں  کہ آپ کی حفاظت کروں گا ۔'تھیسی یس نے جواب دیا۔ 

اس گمبھیر صورت حال میں جہاں ایک باریش بوڑھا  ایڈیپس جس کی آنکھوں کی جگہ گڑھے ہیں ،میلے بوسیدہ ،پھٹے پرانے لباس میں زخموں سے چور اپنی دو کمزور بچیوں کی حفاظت میں پردیس میں  آس و نراش کی کیفیت میں  بیٹھا ہے۔ اسے اس حالت میں دیکھ کر اپنی غ پولی نیسس کو اپنی غلطی  کا شدت سے احساس ہو رہا ہے۔ایسا نہیں ہونا چاہیئے تھا۔ 'مجھ سے بڑی زیادتی ہو گئی۔میں اپنی کمینگی کا اقرار کرتا ہوں اس  کے لئے کسی گواہی کی ضرورت نہیں۔ میں سزا کے لئے تیار ہوں ۔مجھے جوں ہی اس بات کا احساس ہوا تو  تلافی کے لئے  آگیا۔ آپ جو چاہیں مجھے سزا دیں ۔ میں خوشی سے قبول کر لوں گا۔ اعلیٰ حضرت  تھیسی یس کا مشکور ہوں کہ انہوں نے مجھے آپ سے ملنے کی  سفارش کی۔  ' پولی نیسس نے کہا۔ 

ایڈیپس چپ رہا۔ 

'ابو آپ چپ کیوں ہیں۔ آپ مجھے جواب کیوں نہیں دیتے۔میں آپ کا بڑا بیٹا ہوں۔تخت پر میرا پہلا حق ہے۔ مجھے اپنے ملک سے بے دخل کر دیا گیا ہے۔  پنچائت نے فیصلہ کیا تھا کہ ہم دونوں باری باری   حکومت کریں گے لیکن  وہ مجھے دھوکہ   دےکرسازشوں سے مستقل بادشاہ بن بیٹھاہے۔ ابو جان!  میں آرگوس چلا  ۔وہاں  شاہی  خاندان میں شادی کی۔ ان کی مدد سے فوج تیار کرلی ہے۔ اس وقت میرے پاس بڑی فوج ہے۔ سات  سردار اپنی افواج کے ساتھ  میرا ساتھ دینے اور لڑنے مرنے کو تیا ر ہیں۔تھیبز کے ساتوں داخلی دروازوں پر حملہ آور ہو کر ان پر حملہ آور ہوں گے  اورمیرا حق دلائیں گے۔  مجھے  الہام ہوا ہے کہ جس کا بھی آپ ساتھ دیں گے وہ جیت جائے گا۔ تخت اس کا ہو گا۔ آپ بھی میری طرح جلادطن کر دیئے گئے ہیں۔دوسروں کے رحم و کرم پر ہیں۔ آپ میرا دکھ بہتر جان سکتےہیں ۔جنگ میں میرا ساتھ دیں تاکہ حقدار کو حق ملے۔ 'پولی نائیسیز نے اپنے  مقصد کی وضاحت میں دلائل دیئے۔ 

ایڈیپس پھر بھی چپ رہا۔ اس پر لوگوں  نے کہا کہ وہ کچھ تو بولے۔ 

'میں کچھ نہیں کہنا چاہتا تھا لیکن  آپ لوگ مجھے مجبور کر رہے ہیں تو مجھے بولنا پڑ رہا ہے۔ میرے منہ سے جو بھی الفاظ نکلیں گے وہ  پولی نائیسیز  کے لئے تکلیف کا باعث بنیں گے ۔ شروع میں جب یہ تخت پر بیٹھا تو اس نے مجھے ملک بدر کر  دیا۔میری اس بری حالت کا ذمہ دارو ہی ہے۔مجھے بھکاری بنا دیا۔اگر میری بچیاں میرا ساتھ نہ دیتیں تو میں کب کا مر چکا ہوتا۔ انہوں نے مجھے سہارا دیا۔ وہی میری سب کچھ ہیں۔ میری غمگسار ہیں۔وہ میرے بیٹے بھی ہیں اور وہ جو بیٹے بننے کا سوانگ رچا رہے ہیں دیوتا انہیں غارت کریں۔ برباد کریں۔ میری بد دعا ہے کہ دونوں آپس میں لڑتے ہوئے مر جائیں۔ جہنم کی تا ریکیاں ان کا مقدر بنیں۔ یہاں سے دفعہ ہو جاؤ  ۔چلے جاؤ۔' ایڈیپس نے کہا۔  

'طویل سفر کر کے اپنے والد کے پاس  اس امید سےآیا کہ مراد بر آئے گی۔ جواب میں بد دعائیں ملیں۔غیر ساتھ دے رہے ہیں اور اپنے بد دعائیں ۔ نتیجہ کچھ بھی ہو میں اپنا حق  حاصل کرنے کے لئے آخری حد تک جاؤں گا۔میری پیاری بہنو !میری بات غور سے سنو۔مجھے علم ہے کہ باپ کی دعا ضرور قبول ہو گی۔  اگر میں مر جاؤں تو مجھے دفنا ضرور دینا۔' پولی نائیسیز نے کہا۔

'پیارے بھائی جنگ ے باز آجاؤ۔فوجیں واپس لے جاؤ۔اپنے شہر تباہ نہ کرو۔ یہی مشورہ میں دوسرے بھائی کو بھی دوں گی۔'اینٹگنی نے کہا۔

سات سردار اور ان کی فوجیں میدان کا زار کی طرف بڑھ رہی  ہیں۔ ان  کو واپس نہیں  کیا جا سکتا ۔ شائد تم مجھے آج آخری دفعہ دیکھ رہی ہو۔میری مدد کرو۔ پولی نیسس نے کہا۔ 

'پیاری  بیٹیو! تھیسی یس کو بلاؤ۔ مجھے اپالو دیوتاؤں کا پیغام آگیا ہے کہ میرے  جرائم کو عمداً کی بجائے سہواً کی تعزیرات میں بدل دیا گیا ہے اور اب میری ذلت کی موت کو عزت و وقار کی موت میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔میری موت کا وقت قریب آگیا ہے۔ تھیسی یس کو بلائیں۔ 

'عین اس وقت تیز ہوائیں چلنا شروع ہو جاتی ہیں۔ گھنگھورگھٹا ئیں چھا جاتی ہیں۔بجلی کی رعد و کڑک   کےساتھ موسلا دھاربارش شروع ہو جاتی ہے۔ ایڈیپس اپنی بیٹیوں کو کہتا ہے کہ تھیسی یس کو بلاؤ ۔ 'یہ گھن گرج میری اس دنیا سے رخصت کی نشانی ہے۔ اتنے میں تھیسی یس آجاتا ہے ۔

'تھیسی یس  آپ  آ گئے۔ آپ نے مجھ پر جو احسان کیا ہے، اس کا بدلہ چکانےکا وقت آ چکا ہے۔ میں آپ کو ایک پتے کی بات اورایسا راز بتاؤں گا جس پر عمل کر کے آپ کی حکومت مستخکم  ہو گی۔ تمام وباؤں، بیماریوں سے نجات ملے گی اور دشمنوں پر غلبہ حاصل ہو گا۔ یہ تبھی ممکن ہو پائے گا اگر  آپ دیوتاؤں کی شرط پوری کریں گے جو انہوں نے ابھی عائد کی ہے۔ جو یہ ہے کہ مجھے کلونس میں دفنا یا جائے گا  اور  میری قبر کو ہمیشہ خفیہ رکھا جائے گا۔اس کا کبھی کسی کوعلم نہیں ہونے دیا جائے گا۔۔ دیوتا میرے قدم خود بخود اس جگہ کی طرف اٹھا رہے ہیں جہاں مجھے   دفن ہونا ہے۔ یہ جگہ آپ  کے ملک کے لئےمبارک ہو گی۔  تمام مسائل کا مداوا کرے گی۔ ہمت، حوصلہ اور طاقت دے گی۔ بڑی سے بڑی طاقت کو شکست دے گی  اورایتھنز  تھیبز سے بھی آگے نکل جائے گا۔دیوتا سب  جانتے ہیں کہ کون صحیح ہے اور کون غلط۔آپ کو اپنے  احسان کا بدلہ ملنے والا ہے۔ یوتاؤں نےجو سزائیں مجھے دیں اور جو ذلت میرے حصے آئی، اس کی بھی تلافی کریں گے۔مجھے یہی پیغام ملا ہے۔ لمحہ بہ لمحہ ہدایات مجھے موصول ہو رہی ہیں۔ 'ایڈیپس اپنی دھن میں بولتا گیا۔تھیسی یس اس کی باتیں غور سے سنتا  رہا۔ 

'میری بیٹیو۔میرے پیچھے آؤ۔اپنی خفیہ قبر کا راستہ مجھے نظر آ رہا ہے جہاں میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے آرام کروں گا۔ میری آنکھیں نہیں مگر ہر چیز محسوس کر سکتا ہوں۔ میں یہاں سے ہمیشہ کے لئے جا رہا ہوں۔اریطسمن دیوتا تمہیں خوشیاں دے گا۔ مگر مجھے کبھی فراموش نہ کرنا۔ اصلیت معلوم ہونے اور استقلال  سے دیوتاؤں کی طرف سے مصائب  جھیلنے کے بعد اب عام لوگوں  کا رویہ  نرم پڑ چکا ہے۔اب ان کے دلوں میں حقارت اور نفرت کی بجائے محبت کے جذبات پیدا ہو گئے ہیں۔ اب وہ دعا کر رہے ہیں کہ مجھ پر رحم کیا جائے اور میری موت  آسان کر دی  جائے۔'

ایڈیپس کسی کی پرواہ  اور رہنمائی کے بغیر گھاٹی میں اتر جاتا ہے۔ وہ اندھا ہے لیکن بصارت والوں سے بھی تیزی  سے اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔اس کے قدم  میکانکی انداز میں زمین کے  تنگ  ہوتے ہوئے سوراخ کی طرف بڑھتے  جا رہے ہیں۔کوئی غیر مرئی قوت ایڈیپس کو زمین کے ایک مخصوص حصے کی طرف  لے کر جا رہی تھی۔  وہ گہرائی اور اندھیرے میں اترتا گیا۔  اسےدیوتاؤں کی موجودگی کا احساس ہو رہا تھا۔ ایک جگہ جا کر رک گیا۔  بیٹیوں کو کہا کہ پانی لائیں اس نے نہانا ہے۔ انہوں نے ایسا کیا۔ ہمراہیوں کو کہا منہ دوسری طرف کر لیں۔ اپنے کپڑے اتارے ۔خود کو اچھی طرح سے پاک کیا ۔ عبادت  کی۔تدفین کی تمام رسومات ادا کیں۔ جیسے ہی وہ فارغ ہوا زمین لرزنے لگی۔ ایسا لگا کہ زلزلہ آ گیا ہو۔اس کی بیٹیاں یہ دیکھ کر خوفزدہ ہو گئیں۔ ایڈیپس نے انہیں تسلی دی ا ور کہا کہ' میں آج اس دنیا سے رخصت ہو رہا ہوں۔تم میرے ساتھ ہمیشہ رہیں۔تم نے میرے ساتھ تکالیف برداشت کیں۔ مجھے کبھی احساس نہ ہونے دیا کہ تم تکالیف میں ہو۔' تینوں آپس میں لپٹ گئے ، روتے رہےپھر ایک آواز آئی جو اس دنیا کی نہیں تھی، سن کر سب کےدل دہشت سے دہل گئے۔

 'تم دیر کر رہے ہوایڈیپس ۔تمہارا وقت ختم ہو چکا ہے۔ جلدی کرو۔ 'آواز آئی۔ یہ ضرور دیوتا کی آواز تھی۔

ایڈیپس نے تھیسی یس سے  کہا ۔ ' وعدہ کرو کہ تم میری بیٹیوں کا ہمیشہ خیال رکھو گے۔'تھیسی یس نے ایک بار پھر  وعدہ کیا۔

ایڈیپس نے اپنی بچیوں کو وہاں سےچلے  جانے کو کہا لیکن بادشاہ تھیسی یس کو رکنے کو بولا۔ لڑکیاں واپس چلی گئیں۔ چند قدم چل کر مڑیں توایڈیپس غائب ہو چکا تھا۔

'اب تھیسی ایس ہی حتمی طور بتا سکے گا کہ وہ کہاں ،کیسے ، کب  غائب ہوا۔ وہ ہی اس کی قبر  بتاسکے گا۔' وہ اس کے واپس آنے کاانتظار کرنے لگیں۔ کچھ دیر بعد تھیسی یس آگیا۔ انہوں نے پوچھا کہ 'والد کو کہاں دفن  کیاہے؟'

'میری بچیو! انٹنگنی اور ارزمینی ! تمہارے والد کو آخری وقت میں جو عظمت ملی وہ بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے ۔ دیوتا اس پر'اسوقت بہت مہربان تھے۔

'ہماری خواہش ہے کہ اپنے والد کی آخری آرام گاہ دیکھ لیں۔'

'میں چاہوں بھی تو یہ میرے لئے ممکن نہیں ۔ایڈیپس کی آخری خواہش تھی کہ یہ جگہ کسی کے علم میں نہ لائی جائے نہ ہی لوگ اس  پر مزار بنائیں اور اسے پوجیں یا  عبادت کریں۔ وہ اپنی آخری آرام گاہ کو خفیہ رکھنا چاہتا تھا۔اس نے مجھ سے وعدہ لیا اور میں اسے نبھاؤں گا۔ جس سے میرا ملک محفوظ رہے گا۔ رحمتوں کانزول ہو گا۔ میں نے اس بات پر قسم کھائی ہے اور دیوتا اس کے گواہ تھے  ۔'

'آپ ٹھیک کہتے ہیں۔ میں دوبارہ وہاں جانے کی خواہش نہیں کروں گی مگر ہماری خواہش ہے کہ ہم دونوں واپس تھیبز جائیں۔ ہمارے دونوں بھائیوں میں جنگ کے شدید امکان ہے کہ ان میں جنگ ہو۔ ہم اس سے انہیں روکنا چاہتی ہیں ۔ تباہی و بربادی سے ان کو بچانا چاہتی ہیں۔'

'آپ پر میں اپنی مرضی مسلط نہیں کروں گا ۔آپ کی خواہش پر عمل کروں گا۔ میرا دوست ایڈیپس اپنی قبر میں خوش ہو گا کہ میں نے آپ کی مرضی کے مطابق فیصلہ کیا۔'

 

دونوں بہنیں تھیبز کا رخ کرتی ہیں۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پردہ گرتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

3)   اینٹگنی Antigone

 

  اپنے والد ایڈپس کو باوقار طریقے سے قبر میں اتارنے کے بعد ایتھنز کے بادشاہ'  تھیسی ایس' کے اصرار کے باوجود ا ینٹگنی اور ازمینی وہاں نہ رکیں۔ ان کا ماننا تھا کہ وہ اپنے بھائیوں کے درمیان جنگ کو ٹال کر ان  میں صلح کروا دیں گی۔دیوتاؤں کی بد دعا ابھی بھی برقرار تھی۔ باپ نہ صرف اقتدار سے الگ ہوا، اندھا ہوا، ملکہ نے خود کشی کی اور والددنیا سے رخصت  ہوا۔ تاریک سائے ابھی بھی ان کے سروں پر منڈلا رہے تھے۔  اینٹگنی اور ازمینی اپنے بھائیوں میں صلح کروانے کے لئے تھیبز پہنچتی ہیں  تو اس کے دونوں بھائی   پولی نیسس  اور ایٹیولس  تخت نشینی کی جنگ میں  دونوں مارے جا چکے ہوتے ہیں ۔ چھوٹے بھائی کو بڑے بھائی نے قتل کر دیاتھالیکن  ان کا  ماموں' کری اون' اقتدار کے سنگھاسن پر بیٹھ گیا اور  فیصلہ سنا یا  کہ اس کا چھوٹابھانجا جس نے زبردستی تخت پر قبضہ کیاتھا  وہ  حق پر تھااور اس کا بڑا بھانجا  پولی نیسز  غدار تھاکیونکہ وہ سلطنت پرباہر سے حملہ آور ہوا تھا۔ وہ ملک تباہ کرنے کے لئے آیا تھا اس نے اعلان کر دیا تھا کہ چھوٹے بھانجے 'ایٹیولس' کو  سرکاری اعزازات کے ساتھ دفنایا جائے اور  بڑے بھانجے  'پولی نیسز ' کوجنگلی جانور وں کے آگے پھینک دیاجائے۔ اسے دفنایا نہ جائے۔ اس نے فرمان جاری کیا کہ جو اس کے خلاف جائے گا ۔ اس کو موت کی سزا دی جائے گی۔ اس کو سنگسار کردیا جائے گا۔ اینٹگنی نے اس کے احکامات تسلیم کرنےسے انکار کر دیا۔ اس کا ماننا تھا کہ دیوتاؤں کا حکم ہے کہ مردے کی تحریم کی جائے۔ اس کی تضحیک نہ کی جائے۔ دیوتاؤں کا حکم انسانی حکم سے ارفع و اعلیٰ ہے اس لئے اس نے مصمم ارادہ کیا کہ وہ پولی نیسز   کی لاش ہر صورت دفنائے گی خواہ اس کی جان ہی چلی جائے۔ اس نے اپنے بڑے بھائی کو دفنا دیا۔  

مخبر کری اون کو مطلع کرتا ہے کہ  پولی نیسس  کو   کری اون  کی بھانجی اور پولی نیسس کی بہن اینٹگنی نے دفنا دیا  ہے۔  اس کو پکڑ کر لایا گیا تو اینٹگنی نے کہا کہ' ایک فرمان تمہارا ہے اور دوسرا دیوتاؤں کا ۔ کیا انسان کا حکم ماننا چاہیئے  یا دیوتا کا۔۔۔سب نے ایک دن مر جانا ہے۔ کیوں نہ میں دیوتاؤں کا  حکم مانتے ہوئے مروں۔ اس سے بہتر کیا بات ہو سکتی ہے۔ پولی نیسس میرا بھائی تھا۔اس کی میں بے حرمتی برداشت نہیں کرسکتی۔وہ دفنانے کا حقدار تھا جو میں نے کردیا '۔کری اون طیش میں آ گیا  اور کہا  ' وہ یہاں ہماری عبادت گاہیں تباہ کرنے آیا۔ تم میرے بادشاہ بننے پر خوش نہیں ہو۔تمہاری سزا موت ہے۔ میرے گھر میں ہی غدار چھپے بیٹھے ہیں۔تمہارے ساتھ یقیناً  ارزمینی ہو گی۔'  اس نے چھوٹی بھانجی  ارزمینی  کو  بلابھیجا اور پوچھا کہ' کیا اس نے پولی نیسس     کو دفن کیا ہے۔ 'اس نے جواب دیا ہ  ' ہاں۔ '  اس پر اینٹگنی بولی کہ' ارزمینی نے نہیں بلکہ  میں  نے اسے دفن کیا ہے۔ وہ کیوں  سزا پائے۔ اپنے بھائی کو دفنانے کی سزا مجھے دی جائے۔ بھائی کی لاش دفناناتھی،  سو دفنا دی۔ جو بھی سزا دینی ہے دے دو۔ ' اس کے باوجود کہ اینٹگنی کی شادی کری اون کے بیٹے  ہیمون سے طے پاچکی تھی لیکن اینٹگنی نے اس کی پرواہ نہ کی۔

ارزمینی نے  اپنے ماموں کری اون سے کہا ' تم اپنی بہو کوقتل کروا رہے ہو۔ ہیمون اس کا منگیتر ہے ۔ وہ اس سے پیار کرتا ہے۔اسے سزا نہ دو ' لیکن بادشاہ   کری ا ون  نے سنی ان سنی کردی اور دونوں بہنوں کو قید میں ڈالنے کا حکم دےدیا۔اس دوران   ہیمون آتا ہے  اور کہتا ہے ۔'  ابا  جان تم بے گناہوں کو سزا دے کر غلطی کر رہے ہو۔ اس پر کری اون سیخ پا ہو گیا  اور کہا  ' میں نے اینٹگنی کوسزائے موت دے دی ہے اب وہ مرجائے گی اور تمہاری بیوی نہیں بن سکتی۔'اس پر ہیمون احتجاج کرتا ہے اور غصے میں دھمکی دیتا ہے کہ 'اس نے ایسا کیا تو میرا مرا ہوا منہ دیکھے گا۔ اس کی موت میں عظمت ہوگی۔ اسکی موت اسکی ابدی حیات ہے۔ '  

 صاحب علم نابینا غیب دان صوفی اور کاہن ' ٹائریسن 'دربار میں حاضر ہوا  اور کہا  کہ وہ  'ہ دیوتا کی طرف سے پیغام  لایا ہے کہ پولی نیسس کو دفنا  دے  ورنہ تھیبز پر عذاب آ جائے گا۔' اس کے پیغام  پر کری اون نے اعتبار نہ کیا اور الزام لگایا کہ'  تمہیں کسی نے خرید لیا ہے۔ تم عقلمند تو ہو لیکن ایماندار نہیں۔' اس پر اس نےبادشاہ کو کہا  ' اپنا حکم واپس  لو۔ میں نے تمہیں دوباتیں اور بتانا ہیں جو  خوفناک ہیں ۔اگر تم نے اپنا حکم واپس نہ لیا تو تم پرعذاب نازل ہوگا۔ دیوتاؤں سے لڑائی میں تباہی و بربادی ہے۔پہلی یہ کہ اگر تم نے نہ دفنایا تو  تمہیں اپنی اولاد سے ہاتھ دھونے پڑیں گے۔ ابھی وقت ہے جا کر دیوتاؤں کو منا لو ورنہ پچھتاؤ گے۔ فوراً جاؤ اور پولی نیسس کو خود  جا کر دفنا دو اوردیوتاؤں سے معافی مانگو۔  دوسرا یہ کہ ایڈیپس  کوواپس لاؤ،وہ جس  کے ساتھ ہوگا، وہی جنگ جیتے گالیکن تم اس کے مرنے پراسے تھیبز میں دفن نہیں کروگے اور اسے اس کی سرحد سے باہر ہی رکھوگے۔ کری اون نے اس کی بات نظرانداز کردی۔

اس کے جانے کے بعد کری اون کی بیوی ملکہ ' یوریڈیسی'   پریشان حال آتی ہے اور کہتی ہے کہ 'میں نے محل سے رونے کی آوازیں سنی ہیں۔مجھے بتایا گیاہےکہ شائد ہیمون  نے غصے میں خود کو قتل کر دیا ہے اوروہاں پر موجود  مصاحب رو رہے  ہیں ۔اسے بتایاگیاہے کہ ہیمون قبر نما  کال کوٹھری  میں اپنی منگیترا ینٹگنی  سے  ملنے گیا تھاتو اسے محافظوں  نے اطلاع دی۔ کہ  اینٹگنی  نے رسی سے لٹک کر اپنی جان قربان کر دی  ہے۔اس پر  ہیمون نے خود کو خنجر سے خود کشی کرلی ہے۔ تم نے دیوی دیوتاؤں کے فرمان کی حکم عدولی کی  تمہارا  پورا خاندان اجڑ گیاہے۔سونے زیورات، دولت کی ریل پیل ،اختیارات دھرے کے دھرے رہ گئےہیں ۔نحوست نے ڈیرے جما لئےہیں ۔" یہ کہہ کر  ملکہ پر سکتہ طاری ہو گیا۔اس نے کری اون کو قاتل کہا اور وہ محل  چلی گئی۔وہ   غموں کو نہ سہار سکی اور خود کشی کرلی۔ کری اون غم کے سمندر میں ڈوب گیا  وہ پچھتاوے کا شکار ہو گیا ۔ اس نے کہا کہ  'میرےغرورنے  مجھے برباد کیا۔ میں اپنے پیاروں کا  قاتل ہوں ۔ دکھوں کے پہاڑ مجھ پر ٹوٹ پڑےہیں ۔ قسمت نے مجھے برباد کر دیا۔ مجھے مذہب کی پابندی کرنا چاہیئے تھی۔جو مذہب کے خلاف جاتے ہیں انہیں آسمان کی بلندیوں سے پستیوں میں پھینک دیا جاتا ہے۔'

   'ٹائرسن 'کو ایڈیپس  کی  رحلت کا علم تھا۔ وہ اس کی  موت  سے بہت مرعوب لگ رہا تھا۔ اس نے بتایا کہ' اس کی  موت  انتہائی  عزت والی تھی جو کسی کسی کو ہی نصیب ہوتی ہے۔بادشاہ  کو محا فظوں نے غلط اطلاع  پہنچائی ت تھی ۔اینٹگنی  مری نہیں تھی۔ اس نے خود کو رسی سے لٹکایاتو تھالیکن بچالی گئی  تھی۔ انہوں نے وہاں سے جانے کی اجازت چاہی  ۔ 

پردہ گرتاہے۔۔۔۔

 

تجزیہ

 

سوفو کلیز یونان کے تین عظیم المناک ڈرامہ نگاروں میں سے ایک ہے جس کاادب اس کے مرنے کے  چند ہزارسال بعد ہم تک پہنچا۔ان تمام ڈراموں  میں چھ خصوصیات مشترک تھیں۔جس میں 1) ہیرو اور ہیروئن  پر ظلم وستم کے پہاڑ ڈھائے جاتے تھے؛2)  مرکزی خیال ایک جیسا تھا ؛ 3) مخلوق  خیالی تھی 4)  ہر  ڈرامے میں  کورس میں گانے گائے جاتے تھے 5 یا تصاویر ہوتی ہیں )  ماورائی مخلوق پیش کی جاتی تھی اور 6) ہر ڈرامے میں تماشائی شامل کئے  جاتے تھے ۔ اس نے یہ تمام عناصر ہر ایکٹ میں استعمال کئے ۔

 اس نے  شہزادی ا ینتگنی کو سول نافرمان کے روپ میں پیش کیا۔ اس میں دو متحارب  گروہ  بنائے گئے جن کے خیالات ایک دوسرے کے متضادتھے ۔  ا ینٹگنی دیوتاؤں کے احکامات کو دنیاوی قوانین پر ترجیح دیتی ہے جب کہ کری اون اس کے بر عکس اپنی طاقت  اور جبر و استبداد کو دیوتاؤں کے اصول و ضوابط پر ترجیح دیتاہے۔ خود کو فرعون سمجھتاہے اوراپنی مرضی سے، بغیر ضابطوں والےاحکامات جاری کرتاور ان پر سختی سےعمل کرواتاہے۔

اس کے تمام ڈراموں میں پلاٹ، ڈرامے کے بارے میں تمہید، اشارے کنائے پا ئے  جاتے ہیں۔ اس کے ڈراموں میں تسلسل پایا جاتا ہے۔ اینٹگنی کے المیہ کا آغاز اس کے دو بھائیوں کی مرگ سے شروع ہوتا ہے ۔وہ دونوں تخت کے دعویدار تھے۔ کری اون  اپنے بڑے بھانجے پولی نیسس کو اس بنا پر غدار قرار دیتا ہے کہ وہ  ریاست کی سرحدوں پر غیر ملکی فوجوں کی مدد سے حملہ آور ہوا تھا۔سزاکےطورپر اس کی لاش کی بے حرمتی کرتا ہے۔ 

کری اون ایک پیامبر کے پیغام اور بزرگوں کی ہدائت پر بعد ازاں اگرچہ  پولی نیسس کو دفنانے کی اجازت دےدیتا ہے لیکن اس فرمان میں دیر ہوچکی ہوتی ہے۔اور بربادی ہو چکی ہوتی ہے۔ ہیمون جواینٹگنی کا منگیتر اور کری اون کا بیٹا ہے اس کی موت کی سزا سن کرخود کشی کر لیتا ہے۔ملکہ بھی اپنے بیٹے کی موت کا سنتی ہےتو صدمے سے وہ بھی خود کشی کرلیتی ہے۔ ا ینٹنگنی اور ارزمینی بھی قید خانے میں مر جاتی ہیں اور کری اون اپنے زخم چاٹنے کے لئے اکیلا رہ جاتا ہے۔ 

کری اون اپنی تخت نشینی کی تقریب میں قانون کی عملداری کو اولین ترجیح دیتا ہے۔ اس کا ماننا ہے کہ بادشاہ کےفرمان کو  خواہ وہ جائز ہویاناجائزطورپرآنکھ بند کر کے عمل کرنا  ضروری ہوتا ہے ۔ اس کے مطابق قائد کا فرض ہے کہ اپنی رعایا کے لئےٹھوس منصوبہ بندی کرے جو آنے والی نسلوں کے لئے بھی مفید ہوں۔

 پہلے دن سے ہی اس کی  ا ینٹگنی سے چپقلش شروع ہو جاتی ہے جو مذہب کو تمام اشیا پر ترجیح دیتی ہے۔ اس کے ساتھ خاندان اہم حیثیت رکھتا ہے۔ ان کی عزت وقار کے لئے ہر قسم کے خطرات کا سامنا کرنے کا حوصلہ رکھتی ہے۔ اپنی بہن ارزمینی سے گفتگو کے دوران جو وہ اپنے بڑے بھائی پولی نیسس کی تدفین کے بارے میں ہے وہ پختہ یقین رکھتی ہے ۔حالانکہ  اسے پتہ ہے کہ کری اون کے حکم سے انحراف  کی صورت میں  اس کی موت یقینی تھی لیکن وہ اس بات کی پراہ نہیں کرتی۔ آفاقی قوتوں اور خاندان سے محبت اور وفاداری کو شاہی فرمان پر ترجیح دیتی ہے۔

سوفوکلیز اپنے ڈراموں میں پیش بندی کے طور پر اشاروں کنایوں میں ڈرامے کے مرکزی خیال کے بارے میں ڈرامے کے آغاز میں ہی کسی نہ کسی طرح خواہ وہ کورس یا تصاویر اور ڈائیلاگ ہوں ، کے ذریعے نشان دہی کر دیتا ہے۔وہ یہاںسزا دینے والی دیوی کے بارے میں آگاہ کر دیتا ہے کہ حکم نہ ماننے کی صورت میں کون سی سزادی جائے گی۔۔ اسی طرح وہ ایڈیپس بادشاہ کے ایکٹ میں اس کے والدین کے بارے میں کہ وہ اپنے باپ کو قتل کر کے اپنی حقیقی ماں سے شادی کر لے گا  اور دوسرے ایکٹ میں ایڈیپس کولونس میں اس کی موت، قبر وغیرہ  کے بارے میں پہلے سے ہی  انکشاف کرتاہے کہ اس کے ساتھ کیا ہونے جا رہا ہے۔ اسی طرح ہر اہم معاملے میں اسے جو بشارت ہوتی ہے یا اسے یوتاؤں سےجو ہدایات  ملتی ہیں بیان کرتا رہتا ہے۔ 

جب اینٹگنی کو کال کوٹھڑی  میں  ڈال  دیا جاتا ہےجب اسے، ڈینی  اور  اس کے والد کو ٹاور میں قید کر رکھا تھا۔اینٹگنی اور ڈینی دونوں کو قید خانے سے نکالا گیا۔

 سوفوکلیز کورس کو اہم قرار دیا۔ گلوکاروں کی تعداد بارہ سے پندرہ کر دی۔ ہیرو درد ناک انجام پاتے ہیں۔    

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Popular posts from this blog

فہرست دیہی معالج اور دیگر افسانے ( فرانز کافکا)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مکمل کتاب بک 5 فرانز کافکا

٭٭٭٭ Book 4 Story 34 ‘A Song for Selma ( Kurt Vonnegut)